صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ان کی وفات پر تعزیتی بیان میں اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے مرکزی صدر سید خادم حسین شاہ رضوی نے کہا کی ہمیں قبلہ کی وفات کا نھایت ہی دلی افسوس ہوا ہے، مرحوم نسیم عباس منتظری خوش اخلاق اور خوش مزاج طبیعت کے مالک تھے
علامہ محمد افضل حیدری نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ہزارہ شہداء کے ورثاء کو بلیک میلر قرار دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کا بیان غیر ذمہ دارانہ اور ان کے منصب کے منافی ہے، عمران خان کا اپنے سیاسی مخالفین اور حکومتی نا اہلی کے متاثرین غم زدگان کیلئے ایک جیسے الفاظ استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی وزرا علی زیدی، زلفی بخاری، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، بلوچستان کے وزیراعظم جام کمال خان پر مشتمل وفد نے ملاقات کی اور ان سے کامیاب مذاکرات کیے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، علامہ شبیر میثمی، علامہ جمعہ اسدی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری، وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری، وفاقی وزیر علی زیدی، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور دیگر صوبائی وزرا نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
وفاق ٹائمز | وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ جانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ جلد کوئٹہ کے لیے روانہ ہوں گے جس کے لیے ان کے خصوصی طیارے کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے
خانوادہ شہداء نے اعلان کیا کہ ہمارے تمام مطالبات منظور کرلئے گئے ہیں،ملت جعفریہ سے اپیل ہے کہ پاکستان بھر میں دھرنے ختم کردیں۔
شدید تنقید کے بعد بلآخر وزیراعظم نے کوئٹہ جانے کا فیصلہ کرلیا، ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا آج رات یا اعلی الصبح کوئٹہ جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قریبی رفقا نے وزیراعظم کو جانے کے لیے مجبور کیا۔
وزیراعظم عمران خان کے بیان کہ وہ بلیک میل نہیں ہوں گے، دھرنے والے پہلے لاشوں کی تدفین کریں وہ پھر کوئٹہ جائیں گے، کے بعد لوگ مشتعل ہو گئے ہیں اور لاہور کے تمام داخلی راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔ لاہور میں جی ٹی روڈ پر امامیہ کالونی کے مقام پر شہریوں نے ریلوے پھاٹک بند کر دیا ہے اور جبکہ فیروز پور روڈ پر چونگی امر سدھو کے قریب بیجنگ فلائی اوور چوک میں سڑک پر دھرنا دیدیا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کو یہ بیان دیتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی ۔ لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان انسان ہے اور نہ ہی سیاستدان ۔انہیں اپنا بیان واپس لے کر ہزارہ قوم سے معافی مانگنی چاہیے اور فی الفور لواحقین کے مطالبے کے مطابق کوئٹہ پہنچ کر انہیں آئندہ ایسے کسی بھی واقعات کی یقین دہانی کرانی چاہئے