صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
رہے کہ 11 شیعہ ہزارہ کان کنوں کو داعش کے دہشتگردوں نے ہاتھ پاؤں باندھ کر بے دردی سے ذبح کردیا تھا۔
جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی صدراور نائب صدر متحدہ مجلس عمل پیر اعجاز احمد ہاشمی نے کہا ہے کہ مچھ بلوچستان میں ہونے والا واقعہ ظلم و ستم اور بربریت ہے۔ جس انداز سے مظلوم مزدوروں کو شہید کیا گیا ،قابل مذمت اور انسانی تاریخ کا بدنما داغ ہے ۔افسوسناک بات ہے کے داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کے طرز پر مقتولین کو ذبح کیا گیا ہے ۔
اجلاس میں سانحہ کوئٹہ مچھ میں شیعہ ہزارہ کے قتل عام کی بھر پور مذمت کی گی۔اور شہداء کے وارثین سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ حکومت وقت سے ہزارہ برادری کے تمام مطالبات پر عمل درآمد کی تاکید کی گئی۔
شیعہ علماءکونسل پاکستان نے قائد ملت جعفریہ پاکستان کے حکم پر سانحہ گیشتری مچھ کے خلاف اور مظلوموں سے اظہار یکجہتی اور ان کے مطالبات پر عملدرآمد کےلئے کل بروز جمعہ 8جنوری کو ملک گیر احتجاج ہوگا، وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں بشمول کشمیر و گلگت بلتستان احتجاجی پروگرام ہونگے۔
کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر شیعہ ہزارہ کا لاشوں کے ہمراہ دھرنا پانچویں روز بھی جاری ہے۔ سخت سردی کے باوجود احتجاجی دھرنے میں خواتین، بچے اوربزرگ افراد شامل ہیں، دھرنے کے شرکا نے کہا کہ جب تک وزیراعظم احتجاجی دھرنے میں نہیں آتے میتوں کی ہمراہ دھرنا جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ کرونا سے نجات کیلئے دعا کے علاوہ احتیاط بھی ضروری ہے اور دیسی، یونانی دوائیوں کا استعمال بھی مفید ہو سکتا ہے۔ قرآن کی طرف ہر دور میں مسلمانوں کی توجہ ضروری ہے۔اس دور میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ علی خامنہ ای نے قرآن پر خصوصی توجہ کی ہے جس کے نتیجہ میں ایران میں ہزاروں حفاظ اور قاریان ہیں۔
معروف عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی نے سندھ کے وزیر اعلی ناصر شاہ شاہ کے بیان پر رد عمل ل دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن مچھ کے واقعے پر مگرمچھ کے آنسوؤں نہ بہائے، ہم کسی دھوکے میں نہیں آئینگے، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے دور میں بھی ہمارے ہزاروں لوگ قتل ہوئے ہیں.
دھرنے میں شرکت کرنے والی مختلف شخصیات نے ورثاء کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شہداءکے ورثا کی داد رسی کے لیے وزیر اعظم کو فوری طور پر کوئٹہ جانا چاہئے۔
علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ کوئٹہ میں گزشتہ تین روز سے ہزارہ قبیلے کے ہزاروں مرد و زن بچوں اور بوڑھوں کا شدید سردی میں اپنے اپنے شہداءکی میتوں کے ہمراہ دھرنا جاری ہے اور حکمرانوں کی جانب سے ہزارہ کے مظلوم عوام کی اب تک کوئی خاطر خواہ داد رسی نہیں کی گئی۔ جس سے ملک بھر میں مکتب تشیع میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔