رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
اجلاس میں سانحہ کوئٹہ مچھ میں شیعہ ہزارہ کے قتل عام کی بھر پور مذمت کی گی۔اور شہداء کے وارثین سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ حکومت وقت سے ہزارہ برادری کے تمام مطالبات پر عمل درآمد کی تاکید کی گئی۔
شیعہ علماءکونسل پاکستان نے قائد ملت جعفریہ پاکستان کے حکم پر سانحہ گیشتری مچھ کے خلاف اور مظلوموں سے اظہار یکجہتی اور ان کے مطالبات پر عملدرآمد کےلئے کل بروز جمعہ 8جنوری کو ملک گیر احتجاج ہوگا، وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں بشمول کشمیر و گلگت بلتستان احتجاجی پروگرام ہونگے۔
کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر شیعہ ہزارہ کا لاشوں کے ہمراہ دھرنا پانچویں روز بھی جاری ہے۔ سخت سردی کے باوجود احتجاجی دھرنے میں خواتین، بچے اوربزرگ افراد شامل ہیں، دھرنے کے شرکا نے کہا کہ جب تک وزیراعظم احتجاجی دھرنے میں نہیں آتے میتوں کی ہمراہ دھرنا جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ کرونا سے نجات کیلئے دعا کے علاوہ احتیاط بھی ضروری ہے اور دیسی، یونانی دوائیوں کا استعمال بھی مفید ہو سکتا ہے۔ قرآن کی طرف ہر دور میں مسلمانوں کی توجہ ضروری ہے۔اس دور میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ علی خامنہ ای نے قرآن پر خصوصی توجہ کی ہے جس کے نتیجہ میں ایران میں ہزاروں حفاظ اور قاریان ہیں۔
معروف عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی نے سندھ کے وزیر اعلی ناصر شاہ شاہ کے بیان پر رد عمل ل دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن مچھ کے واقعے پر مگرمچھ کے آنسوؤں نہ بہائے، ہم کسی دھوکے میں نہیں آئینگے، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے دور میں بھی ہمارے ہزاروں لوگ قتل ہوئے ہیں.
دھرنے میں شرکت کرنے والی مختلف شخصیات نے ورثاء کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شہداءکے ورثا کی داد رسی کے لیے وزیر اعظم کو فوری طور پر کوئٹہ جانا چاہئے۔
علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ کوئٹہ میں گزشتہ تین روز سے ہزارہ قبیلے کے ہزاروں مرد و زن بچوں اور بوڑھوں کا شدید سردی میں اپنے اپنے شہداءکی میتوں کے ہمراہ دھرنا جاری ہے اور حکمرانوں کی جانب سے ہزارہ کے مظلوم عوام کی اب تک کوئی خاطر خواہ داد رسی نہیں کی گئی۔ جس سے ملک بھر میں مکتب تشیع میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
پاکستانی ایجنسیاں پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں کوئی ان کا حریف نہیں۔ مطلوبہ افراد تک پہنچنے میں یہ اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ پاکستان کے اندر بھی ان کی بڑی دھاک ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان شیعہ ہزارہ مظاہرین کے پاس کوئٹہ آئیں، انکے مطالبات سنیں اور پورے کریں،بصورت دیگر ہم پورے پاکستان کو جام کرکے پارلیمنٹ ہاوس،وزرائے اعلیٰ ہاوسز اور گورنر ہاوسز کا گھیراو کرینگے۔