صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























اولو الامر کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر اسلامی معاشرے میں اولو الامر قانون کے محافظ امانتدار خدمت گزار، نظم و ضبط برقرار کرنے والے کے عنوان سے موجود نہ ہو تو دین میں رد و بدل کا امکان بڑھ جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دشمن شناس بنین، اپنے دشمن اور اس کے سازشوں کو پہچانیں، اپنے عقائد کو مضبوط کریں اور ہمیشہ ولایت فقیہ کے دامن کو تھامے رکھیں،
گلگت بلتستان اسلامک اسٹوڈنس کے زیر اہتمام شہید رضوی،شہید مدافع حرم سردار قاسم سلیمانی اور ان کے رفقاء اور شہید آیت اللہ باقر النمر کی برسی کے موقع پر ایک عظیم الشان تعزیتی کانفرنس اسلام آباد میں میں منعقد ہوا۔
اس بیان میں آیا ہے کہ مٹھی بھر مجرم ، دلوں سے نفرت اور لاعلمی اور تکفیریوں کا تعصب ، آج استعمار کے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی خدمات کی رہنمائی میں ہیں ، اور یہ لوگ انہی اداروں کی پشت پناہی میں دہشت گردی کرتے ہیں.
علامہ محمد افضل حیدری نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ہزارہ شہداء کے ورثاء کو بلیک میلر قرار دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کا بیان غیر ذمہ دارانہ اور ان کے منصب کے منافی ہے، عمران خان کا اپنے سیاسی مخالفین اور حکومتی نا اہلی کے متاثرین غم زدگان کیلئے ایک جیسے الفاظ استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔
سربراہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کی جانب سے سانحہ مچھ کے بارے میں اہم بیان
اسلامی جمہوریہ ایران کے قم المقدس شہر میں شہدائے سانحہ مچھ کی یاد میں طلاب پاکستان کا ایک عظیم اجتماع منعقد ہوا جس میں طلاب کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جلسے سے خطاب میں مقررین نے مچھ سانحہ کے مجرمین کو انسانیت کا دشمن قرار دیا ہے۔
تعزیتی اور احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خبرگان رہبری کے رکن آیت اللہ اراکی نے کہا کہ شهداء باعث حیات اور نشاط اقوام ہیں. وہ عظیم مرتبہ پر فائز ہو گئے ہیں.تمام مسلمان ممالک دارالاسلام ہے دارالاسلام اور اھل اسلام کی حفاظت سب پر لازم ہے.
اجلاس میں شہداء کے لواحقین کے مطالبات کی بھرپور حمایت اور تائید کا اعلان کیا گیا اور وزیر اعظم پاکستان سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ یہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کی انسانی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے کہ وہ فی الفور کوئٹہ جائیں اور شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کریں اور ان کے مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس عظیم اور مخلص عالم دین نے اپنی بابرکت زندگی فقہ، حکمت ، قرآن مجید کی تعلیمات اور اہلبیت عصمت وطہارت(علیہم السلام) کے مکتب کی ترویج و تبلیغ میں گزاری۔ انقلابی اور علمی میدان میں مختلف شبہات کے مقابلے میں ہمیشہ اپنے روشن اصولوں کی پابندی،جرائت اور روشن فکری اس عمارِانقلاب کی جملہ خصوصیات ہیں۔ اسلامی نظام اور ولایت فقیہ کا عالمانہ اورمحققانہ دفاع اس عظیم دانشور اور عالمی دین کی بابرکت زندگی کا نمایاں پہلو ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے سماجی اور خدمت رسانی کے مختلف شعبوں میں حوزہ علمیہ اور علمائے کرام کے کردار کو ایک اہم اصول قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ حوزہ علمیہ یعنی،معاشرتی مسائل کو حل کرنے کیلئے خدمات انجام دینا،البتہ،اس اہم کردار کو ادا کرنے کے لئے ایک منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔