دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























سکردو میں انجمنِ امامیہ کے تحت علمائے بلتستان کا عظیم اجتماع، تجدیدِ عہد و عظمتِ شہداء کانفرنس کا انعقاد
انہوں نے معاد (یوم قیامت) پر ایمان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایمان انسان کو ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے اور اسے بہتر زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔
میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں انہوں نے کہا چند دن پہلے کراچی میں چینی شہریوں پر ہونے والا بم دھماکہ بھی ملکی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے ۔جبکہ پارا چنار ایک عرصے سے دہشت گردی اور بدامنی کا شکار چلا آرہا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
حال ہی میں حجۃ الاسلام ڈاکٹر ناصر رفیعی نے زاہدان کے امام جمعہ مولوی عبدالحمید سے ایک اہم سوال کیا کہ انہوں نے فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے کتنی تقاریر کی ہیں۔ یہ سوال بظاہر ایک دعوتِ فکر ہے کہ جب ایران جیسے ملک نے ہمیشہ فلسطین کے حق میں آواز بلند کی، تو دیگر مسلم ممالک اور خاص طور پر عرب ممالک کیوں خاموش ہیں؟ کیا شیعہ سنی تفریق اس مسئلے کے حل میں رکاوٹ ہے یا کہیں یہ عرب دنیا کی ایک منظم غفلت کا نتیجہ ہے؟
شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس وفاقی دارالحکومت میں شروع ہوگیا۔ افتتاحی سیشن سے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے افتتاحی خطاب کیا۔
قابل ذکر ہے کہ ریمدان بارڈر ایران اور پاکستان کے درمیان ایک سرحدی راستہ ہے۔ یہ سرحدی علاقہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے ضلع دشتیاری میں واقع ہے اور چابہار سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
زخمیوں میں مرد خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، زخمی زائرین کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال نوشکی منتقل کر دیا گیا ہے
وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر پیغام دیا ہے۔
مدرسہ حضرت خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا بندر عباس کے ثقافتی/تبلیغی شعبے کے وائس چیئرمین نے کہا کہ؛ طلباء کی محرم الحرام اور ماہِ صفر کی تبلیغی سرگرمیاں معاشرے کے دینی شعبوں کو زندہ رکھتی ہیں اور عاشورا کی ثقافت کو سمجھنے پر زور دیتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ عدل حسینی اور اپنا جلال دکھائے اور جس طرح یمنی معاشرہ ہے ویسا ہی معاشرہ دوسرے ممالک میں زندہ کرے جو اس شریر اور شیطانی صہیونی حکومت اور امریکہ کا گلا گھونٹ دے