صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























حوزہ/امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے نمازِ جمعہ کے خطبوں میں ماہ مبارک ذی الحجہ کے فضائل اور مناسبتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے امام محمد باقر علیہ السّلام کی شہادت اور یومِ عرفہ و عید الاضحیٰ کے احکامات بیان کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک عالم دین، لوگوں کے دکھ درد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دین کی بہتر پہچان کروا سکتا ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ حافظ ریاض حسین نجفی نے قم کے معروف قبرستان میں مدفون حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ قاضی سید نیاز حسین نقویؒ کے مزار پر حاضری دی ۔
مدرسہ امام المنتظر قم میں 8 شوال یوم انہدام بقیع کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے کہا کہ وہابیت ایک نیا مذہب ہے جو پہلے موجود نہیں تھا قدیم دور سے دو مذہب شیعہ و سنی چلے آرہے تھے لیکن یہ مذہب تیزی سے پھیلا شروع یہ مذہب اپنے سواء سب کی تکفیر کا قائل تھا ان کے نزدیک شیعہ و سنی میں کوئی فرق نہیں رکھتا جیسے ان کی تنظمیں داعش و طالبان نے فقط شیعہ کا قتل عام نہیں کیا بلکہ اہل سنت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں لَوْ أَدْرَکْتُهُ لَخَدَمْتُهُ أَیامَ حَیاتِی اگر میں ان کو پالیتا تو اپنی تمام عمر ان کی خدمت کرتا۔ آئمہ علیہم السلام امام زمانہ(عج) کی نسبت اس طرح کے احترام کے قائل تھے اور یہی احترام ان کے شاگردوں میں منتقل ہوا۔
ایک واقعہ ملتا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے بڑے بیٹے اسماعیل کا ایک دوست تھا کہ جو نشہ کرتا تھا اور لوگوں کے نظر میں کافی بدنام تھا تو ایک بار جناب اسماعیل نے اسے پیسے دیئے تو وہ ان پیسوں کو کھا گیا
ملاقات میں زائرین سید الشہداء حضرت امام حسین (ع) کی مشکلات اور ان کے حل کے حوالے سے گفتگو کی گئی
اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس ماہ ایسے عظیم ہستیوں کی ولادت ہوئی جو کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ موجود تھے جن میں حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام جب کہ ولادت 4 شعبان المعظم کو ہوئی اسی طرح سید الساجدین امام زین العابدین علیہ السلام جن کی ولادت 5 شعبان المعظم کو ہوئی-
قائد ملت جعفریہ کے ترجمان زاہد علی آخونزادہ نے مزید کہا کہ ہم سانحہ شیعہ جامع مسجد کوچہ رسالدار کے واقع پر مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جوڈیشل کمیشن کا تسلسل سے مطالبہ کرتے رہے تاکہ یہ امر طشت از بام ہو سکے کہ کوئی دشت گرد کیسے درجنون ناکوں سے گزر کر اندرون شہر تک پہنچا اور کیسے اس نے نماز کی ٹائمنگ کے ساتھ مسجد میں گھس کر دھماکہ کیا۔