غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
تحریر: نذر حافی چند سال پہلے کی بات ہے۔ ایک کانفرنس میں ملّتِ کشمیر کی ذہانت و فطانت پر مجھے ایک مقالہ پڑھنے کا موقع ملا۔ کانفرنس ہال میں ہمارے کچھ اساتذہ بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک بڑے نامور اور گرامی القدر استاد نے کانفرنس کے بعد جہاں میری بہت حوصلہ افزائی کی، وہیں مسکراتے ہوئے میرے کان میں یہ سرگوشی بھی کی کہ اتنی ذہین قوم کی گردن میں غلامی کا طوق کیوں ہے۔؟
شیعہ و سنی مفسرین کی متفقہ رائے کے مطابق علی ؑ وہ شخصیت ہیںجس کی فضیلت پر قرآن کی تین سو آیات نازل ہوئیں۔ عقدِ اخوت میں اسی ہستی کو رسول اللہ ﷺ نے اپنا بھائی قرار دیا۔ جنگ ِ بدر ‘ جنگ ِ احد ‘ جنگ ِ خندق اور جنگ ِ خیبر کی جیت کا سہرا صرف علی ؑ کے سر سجتا ہے۔ جس کی شان اور منزلت کے لیے غدیر ِ خم جیسے میدان اللہ تعالیٰ کے حکم سے سجائے جائیں اور اس کے مولا ہونے کا اعلان کیا جائے اسے علی ؑ کہتے ہیں۔
قم المقدس میں حوزہ علمیہ قم کے استاد مہدویت حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ شیعہ سوشل میڈیا پر بعض غالی و اہل بدعت اس روایت کو شیعہ موجودہ فقہاء کے خلاف ذکر کرتے ہیں کہ جو درست نہیں ہے۔
تمام معصومین علیہم السلام سے امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے بارے میں احادیث اور روایات نقل ہوئی ہیں ۔۔۔اس سے پہلے ہم نے نبی اکرم ﷺ اور امیر المومنین ع سے مولا ع کی غیبت پر حدیث نقل کی ۔۔۔ آج تین معصومین ع سے ان شاءاللہ مزید روایات نقل ہونگی ۔
برے لوگوں کے رنگ ميں رنگ جانا پست ہمت اور بے ارادہ لوگوں کا کام ہے،ليکن صبر و استقلال کے ساتھ دوسروں کو اپنے ماحول ميںبدلنا ، تحول پيدا کرنااور مثبت انقلاب پيدا کرناقدر ت مند بہادر مومنوں کا کام ہے
سیدہ کائنات نے ترویج و بقاء دین مقدس اسلام میں اہم کردار ادا فرمایا ہے آپ نے اپنے خطبات اور اشعار کے ذریعہ دین اسلام کے معارف اور تعلیمات کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کا اہتمام کیا اور اپنے عمل و کردار سے بھی بھرپور انداز سے اسلامی اقدار کی تشریح فرمائی اور آپ نے تربیت اولاد اور عملی اقدامات کی بدولت دین اسلام کی بقاء میں اپنا وافر حصہ ڈالا ہے ۔
شہید سید ضیاء الدین رضوی اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے اور مذہب اہل بیت علیہم السلا م کے دفاع کے لئے بہت سارے محاذوں پر لڑتے رہے
فاطمہ کی سیرت ،کردار،معرفت اور عمل نے ہی آپ کو اس مقام پر پہنچادیا کہ رسول اکرم نے آپ کو"عالمین کے عورتوں کا سردار"ام ابیہا" جیسےالقابات سے نوازا۔ ساتھ ہی آپ کے احترام میں پیغمبر کا کھڑا ہونا بھی آپ کے عظمت کی دلیل ہے۔ یہ سب ایسےماحول میں ہوا جہاں عورت کو انسان نہیں سمجھا جاتا۔
آسمان فضیلت کی مدحت سرائی ممکن نہیں۔ کسی کی کیا مجال ہے جو بوستان فضیلت کی شاخ درخت پر بلبل کی طرح بیٹھ کر آسمان فضیلت پر فائز ہستی کی مدح سرائی کا فریضہ نبھا سکے۔