غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























سیکرٹری جنرل پیر محمد صفدر شاہ گیلانی اور لاہور کے امیر مفتی محمد نعیم جاوید نوری نے کہا کہ قادیانی اسلام اور ملک پاکستان کے کھلے دشمن ہیں، پشاور بم دھماکے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، آئے روز پٹرولیم مصنوعات اور اشیاء خور ونوش کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافے سے مہنگائی کا سونامی آ چکا ہے، جس سے غریب عوام کا جینا دشوار ہوگیا ہے۔
ادھر مقبوضہ کشمیر کے سرحدی ضلع کرگل میں بھی پشاور سانحہ کی مذمت کی اور بھارتی حکومت اور عالمی برادری سے درخواست کی کہ وہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالے۔ اس طرح کی وحشیانہ حرکتیں انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔ چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو کونسل کرگل فیروز احمد خان نے کہا کہ ایل اے ایچ ڈی سی کرگل پشاور میں نمازیوں پر ہونے والے وحشیانہ حملے کی مذمت کرنے میں عالمی برادری کے ساتھ شامل ہے۔
شب چار شعبان المعظم جو حضرت ابالفضل العباس(ع) کی شب ولادت ہے اس مناسبت سے شام سات بجے سے خصوصی جشن کا انعقاد کیا جائے گا جس میں حجت الاسلام والمسلمین روح اللہ موید حضرت اباالفضل العباس(ع) کی شان میں اشعار پڑھیں گے اس کے علاوہ ملک کے مشہور منقبت خوان سید مجید بنی فاطمہ منقبت خوانی کریں گے،جشن کے اختتام پر آیت اللہ کازرونی محفل جشن کو خطاب کریں گے ۔
جے یو آئی (ف) کے وفد نے دہشتگردانہ واقعہ کی مذمت کی، سانحہ میں شہید ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت جبکہ زخمیوں کے لیے صحت کی دعا کی، جے یو آئی کے رہنمائوں نے کہا کہ اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، دہشت گرد ملک کے امن کو تہہ بالا کرنا چاہتے ہیں۔
متن میں کہا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان اور صوبائی حکومتوں کے کردار کے بغیر دہشت گردی کی جنگ جیتی نہیں جا سکتی ،اس لئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کرنے کے لئے واضح پالیسی اپنائیں ۔اس سلسلہ میں اگر دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ کی ملوث ہونے کی بھی تصدیق ہوتی ہے ،جس ملک کی قوتیں اس میں ملوث پائی جاتی ہیں اُن سے بھرپور احتجاج کیا جائے
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کے نام پر کلمہ گوہوں کو ذبح کرنے والے دین اسلام کے چہرے پر بدنما داغ ہیں، دہشت گردی میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری اور سخت سزاؤں کا مطالبہ کرتا ہوں۔
امتحانات 26 مارچ سے شروع ہوں گے، قرآن، تفسیر، حدیث، تاریخ، اخلاق، فقہ، عقائد، اصول الفقہ، تجوید و قرات، حفظ قرآن اور پیش نمازی کے امتحانات لئے جائیں گے
اصلاح معاشرہ کیلئے مسلم دنیا اور علماء میدان عمل میں آئیں اور کوشش کی جائے کہ بہتر اور اچھا ماحول پیدا ہو۔ اس موقع پر مولانا اکرام حسین ترمذی، مولانا رجب علی بنگش، آغا جعفر علوی، مولانا عباس رضا نجفی، مولانا مرزا طاہر علی حبیب اور دیگر علماء و خطیب موجود تھے۔ بعد ازاں ملک کی سلامتی اور استحکام کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔
مجلس وحدت مسلمین کے کنونیر نصاب کمیٹی علامہ مقصود علی ڈومکی اور مرکزی سیکریٹری ایمپلائز ونگ ملک اقرار حسین نے ممتاز عالم دین علامہ سید افتخار حسین نقوی سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں یکساں قومی نصاب کے متنازعہ نکات کی اصلاح اور نظر ثاني پر مشاورت کی گئی۔