صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























شیعہ علماءکونسل پاکستان نے فلسطینی بے گناہ بچوں ،عورتوں ،بزرگوں، نوجوان شہریوں کے قتل عام، نسل کشی ،بے پناہ مظالم اورتباہی و بربادی کےخلاف 21مئی2021ءبروز جمعة المبارک کو ملک گیر یومِ احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے
مرحوم کی زہد و تقویٰ اور عبادات کسی سے مخفی نہیں، کئی سال قبل کرگل کے کچھ شر پسند عناصر نے مرکزی جامع مسجد امام علی علیہ السلام کرگل میں نمازیوں پر نماز کے دوران حملہ کرکے متعدد نمازیوں کو لہولہان کیا تھا۔ جنمیں سے ایک آپ بھی تھے جن کا کافی خون بہہ گیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کی جان بچ گئے تھی
ہم فلسطینی مظلوموں کی حمایت اور دہشت گرد اسرائیل کی شدید مذمت کرتے ہوۓ ہر سطح پر حتی الامکان قدس کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے
فلسطینی قوم اور مسلمانوں کے مقدس مقامات نیز بیت المقدس، شیخ جراح اور غزہ پر غاصب صیہونیوں کی وحشیانہ جارحیت کے پیش نظر تمام فلسطینی گروہوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غاصب صیہونیوں کے جرائم روکنے کی کوشش اور ان جرائم کا بھرپور مقابلہ کریں
انہوں نے کہا ہے کہ ایک طرف سے غاصب صہیونی حکومت بین الاقوامی برادری کی بے حسی ، اسلامی ممالک کے سربراہوں کی مجرمانہ خاموشی اور بعض ممالک کے ساتھ معمول پر لائے گئے تعلقات سے فائدہ اٹھا کر اپنے جرائم کو عروج پر پہنچا رہی ہے ۔ القدس کی توہین کرکے اسے نذر آتش کر رہی ہے، وحشیانہ بمباری کے ذریعے مظلوم اور بیچارہ لوگوں کو گھر سے بے گھر کر رہی ہے، فلسطین کے غیور عوام کی سرکوبی کے لئے ظلم وبربریت کے ذریعے نہتے بچوں اور عورتوں کا بھی بے رحمانہ قتل عام کر کے امت مسلمہ کا دل خون کر رہی ہے۔
شیخ الجامعہ علامہ اختر عباس نجفی رہ کا شمار پاکستان کے ان ممتاز علماء دین میں ہوتا ہے جو ملت جعفریہ پاکستان کی تاریخ میں ترویج و تحفظ علوم دین کے لیے رہنما کی حیثیت سے آج بھی یاد کیے جاتے ہیں اور جن کی زندگی کو علم و عمل کے میدان میں آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ کے طور پر متعارف کروانے کی ضرورت ہے
مسیحیوں کے روحانی پیشوا نے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقے شیخ جراح میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے جبری بے دخلی اور صیہونی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلمانوں اور مسیحیوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتےہوئے کہا ہے کہ القدس کے بہادر، صیہونی بربریت کے خلاف مقدس مقامات کے تحفظ کیلئے متحد ہیں۔
آیت اللہ بہجت کے بارے میں اکثر لوگ یہی کہتے تھے کہ وہ مخفی چیزوں کو دیکھتے ہیں، لیکن ایسی باتیں ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔ وہ فرماتے تھے کہ اس طرح کی باتوں کی کھوج میں رہنا بری بات ہے۔
حضرت آیت اللہ محمد تقی بہجت ۱۳۳۴ ھ (یا ۱۳۳۲ ھ) میں فومن کے ایک مذہبی خانوادہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں جس گھر میں ان کی پیدائش ہوئی تھی اس کو انہوں نے ایک دینی مدرسہ میں تبدیل کر دیا۔ ۱۶ ماہ کی عمر ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو ان کے والد نے ان کی تربیت کی۔ ان کے والد محمود کربلائی فومن کے علاقہ کے مخصوص بسکٹ بنانے کے ذریعہ کسب معاش کرتے تھے۔