غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























علامہ باقرعباس زیدی نےکہا کہ عوام کو اب اپنےحقوق کے تحفظ کیلئے گھروں سے نکلنا ہوگا، ملک تاریخ کے سنگین اور نازک دور سے گذر رہا ہے ، اب بھی گھروں سے نا نکلا گیا تو کچھ نہیں بچے گا،
محمد حیدر نقوی نے کہا کہ دہشتگردانہ واقعے میں زخمی ہونے والے تمام سیکیورٹی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔
ڈی جی خانہ فرہنگ ایران لاہور جعفر روناس نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی وسیع پیمانے پر موجودگی انقلاب اسلامی کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک تھی لیکن اس میدان میں خواتین کا کردار بہت متاثر کن اور مؤثر رہا۔
وفد کو پدرانہ نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ بشیر حسین نجفی نے کہا کہ ایک دوسرے سے روابط اور مکالمہ کی فضاء کو فروغ دیا جائے، علمی مباحث ضرور کریں یہ فکری ارتقاء کی نشانی ہے، مگر مسلمان بھائیوں کا قتل ناجائز ہے۔
ان کا کہنا تھا انقلاب اسلامی در حقیقت انقلاب امام مہدی عج کا پیش خیمہ اور ایک جھلک ہے امام خمینی رح کی فکر اور انکے راہنما اصولوں پر گامزن امام راحل کے نظریاتی و معنوی فرزند آیت العظمی سید علی خامنہ ای دامت برکاتہ کی بابرکت قیادت میں ایران تیزی سے ترقی کے زینے طے کرتا دنیا بھر میں اپنا مقام بنا چکا ہے
ٹاک شو سے آیت اللہ شیخ غلام عباس رئیسی اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین مولانا سید احمد اقبال رضوی نے حضرت امام علیؑ کا جاذبہ و دافعہ اور شہید مظفر علی کرمانی کی شخصیت سے متعلق گفتگو کی۔
سیدہ معصومہ نقوی نے کہا کہ ننھی بچیوں کو دین و شریعت سے آگاہی دینے کے لیے اس طرح کے جشن اور محافل کا انعقاد انہیں دین سے قریب اور شرعی احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لیے جوش اور جزبہ دلاتا ہے بچیوں کو ایسے خوبصورت انداز میں ان پر واجب ہونے والے احکامات اور ان کا عظیم اجر اور خدا کی بندگی و عبادت کو بہترین انداز میں بیان کیا جائے تاکہ انہیں دین کی جانب رغبت و تشویق ہو۔
انہوں نے نائیجریا میں اسلامی تحریک کی تمام تر مخالفت، تشدد اور دشمنی کے باوجود ترقی اور پیشرفت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک انشاء اللہ حضرت صاحب الزمان (عج) کے ظہور تک جاری رہے گی اور کوئی بھی طاقت اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔
واضح رہے کہ علامہ سید ناظر عباس تقوی ان دنوں 13 رجب المرجب جشن ولادت باسعادت مولود کعبہ مولا علی ابن ابی طالبؑ کے پرمسرت موقع پر عمرے کی سعادت کے حصول کیلئے سعودی عرب میں موجود تھے۔