صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























امیر المومنین علیہ السلام اس کلام میں دو نکات کو بیان فرماتے ہیں ایک صدقہ کی تاثیر اور دوسرا قیامت کے دن انسان کے دنیوی اعمال کا حضور کہ جسے ’’تجسم اعمال‘‘ یعنی خود اعمال کا مجسم ہو کر حاضر ہونا۔
آستان قدس رضوی کے نائب متولی مصطفیٰ خاکسار قہرودی نے اپنے پیغام میں عصر حاضر میں سائبر اسپیس اور سوشل میڈیا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن اپنے نظریات کو بیان کرنے کے لئے سائبر اسپیس کا سہارا لیتا ہے اس لئے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ثقافتی دفاع کو پوری طرح سے مضبوط کیا جائے تاکہ دشمن کی مذموم سازشوں اور غلط نظریات کو روکا جا سکے ۔
حوزہ علمیہ نجف کے معروف استاد حجۃ الاسلام والمسلمین محمد علی بحر العلوم نے کہا ہے کہ اہل عراق کو ہمیشہ سے اہل بیت اور آئمہ اطہار علیہم السلام سے شدید عقیدت ہے، اور امام علی(ع) کی طرف سے کوفہ کو اپنا دار الخلافہ بنانے کے دن سے لے کر آج تک اہل عراق کا شعار یہی عقیدت ہے اور اس کی حفاظت کے لیے انھوں نے ہر آزمائش کو قبول کیا اور اس میں کامیاب رہے۔
امام خمینی رح نے خواتین کے حجاب کو شہدا کے خون سے ذیادہ افضل قرار دیا ہے لھذا جناب زینب سلام اللہ علیھا کی پیروکار اپنے حجاب شرعی کے ساتھ دین کی خدمت کا جزبہ لے کر میدان میں اتریں
مولانا صاحب نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیاکہ وفاق المدارس الشیعہ کا 10 سالوں میں انہیں فقط ایک خط ملا نیزوفاق المدارس کا تعلیمی اداروں سے عملی رابطہ اور مشاورت نہ تھی۔دوسرے الزام کی تصدیق سالانہ اجلاسات اور مشاورت میں شریک ہونے والے سینکڑوں مدارس میں سے کوئی بھی نہیں کرے گا۔نا صرف اپنے مدارس بلکہ عصری تعلیمی اداروں سے بھی ہمارا قریبی رابطہ رہتا ہے جس کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔
ڈاکٹر جلال الدین رحمت، انڈونیشیا میں مذہب تشیع کے بانی،اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کے قائداور انڈونیشی تنظیم ایجابی کے سربراہ تھے۔
علامہ سید علی مرتضی ٰ زیدی نے کہا کہ جس چیز کا انتساب خدا کے ساتھ ہوجائے اور اس کی قدر نہ کی جائے تو انسان پر آفتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ انسان خدا کے یہاں ہر ایک نعمت کا جواب دہ ہے ۔ خدا کی نعمتوں کی قدر نہ کی جائے تو خدا کے یہاں اس کی سخت پکڑ ہوتی ہے ۔
انقلابی تحریک کی دسویں سالگرہ کے موقع پر اپنے بیان میں تاکید کی کہ بحرینی عوام کی دس سالہ استقامت و پائیداری ، جاں فشانی و قربانی اور اپنے جائز حقوق کا مطالبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس انقلاب کی بنیادیں اور عناصر ایک ایسے مضبوط ، انصاف پسند اور عدالت محورملک کی تشکیل کی صلاحیت رکھتے ہیں جو استحکام ، قومی اتفاق رائے اور توسیع و ترقی کے لئے جیتا جاگتا آئیڈیل بن سکے۔
بورڈ آف ڈائریکٹر جامعہ طوسی بلتستان نے دور حاضر میں دشمن کی ثقافتی یلغار اور نئی نسل کو فکری بے راہ روی سے بچانے کے لئے جدید تعلیم کے ساتھ تربیت کو اہم قرار دیا-