صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























انہوں نے کہا کہ پروفیسر رحمت مشرقی ایشیاء خصوصاً انڈونیشیا میں وحدت و تقریب مذاہب اسلامی کے سرگرم مبلغین میں سے ایک تھے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے زیر اہتمام درجہ الشہادۃ الثانویہ العامہ تا الشہادۃ العالمیہ (میٹرک تا ایم اے عربی اسلامیات) نیز تجوید و قرات ، حفظ القرآن اور پیش نمازی کے امتحانات انشاء اللہ عید الفطر کے بعد 22 تا 25 مئی 2021 کو منعقد ہوں گے.
امام علی نقی علیہ السلام فرماتے ہیں وَاعلَمُوا اَنَّ النَّفسَ أقبَلُ شَیءٍ لِما أُعطِیَت وَ أمنَعُ شَیءٍ لِما مُنِعَت۔ جان لو جو چیزیں انسان […]
سمجھ نہیں آتی حکومت کیا چاہتی ہے اور اسکا ویزن کیا ہے ، اگر کوئی ہے تو ۔ ایک طرف یکساں تعلیمی نصاب کی بات ہوتی ہے دوسری طرف نئے وفاقی بورڈ تشکیل دیکر نئے نصابوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ۔
انڈونیشیا کے دانشور ڈاکٹر جلال الدین رحمت کی رحلت پر ایرانی دینی مدارس کے سربراہ اور امام جمعہ قم آیت اللہ اعرافی نے اس ملک کی مذہبی، سماجی اور ثقافتی شخصیات اور ملت و حکومت انڈونیشیا کے نام تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ اسلامی مفکر، انڈونیشیا کی پارلیمنٹ کے سابق ممبر اور ادارہ اہل بیت(علیہم السلام) کے سربراہ مرحوم ڈاکٹر جلال الدین رحمت کی رحلت پر دکھ اور افسوس ہوا۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے انڈونیشیا میں شیعیت کی بنیاد رکھنے والے اور انجمن اہلبیت ؑ انڈونیشیا کے سربراہ ڈاکٹر جلال الدین رحمت کے انتقال پر تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر جلال الدین رحمت نے انڈونیشیا میں اسلامی معارف اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی ترویج کی۔ وہ مختلف مذاہب کے درمیان اتحاد و وحدت کے قیام میں پیش پیش تھے۔
قابل ذکر ہے کہ بحرین میں ظالم و جابر آل خلیفہ حکومت کے خلاف انقلابیوں کی تحریک چودہ فروری دو ہزار گیارہ سے جاری ہے جبکہ اس عرصے کے دوران گیارہ ہزار سے زائد بحرینیوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے آل خلیفہ حکومت نے بعض کی شہریت تک کو منسوخ کر دیا۔
چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کہا ہے کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جس کے مرد و زن دونوں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں۔ تعلیم انسان میں حقوق و فرائض کا شعور پیدا کرتی ہے اور اسے اخلاق کے ساتھ ساتھ اچھے برے کی تمیز بھی سکھاتی ہے۔
آپ علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں ایک معروف حدیث ہے جس کی عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ سامراء میں اچھی خاصی تعداد میں شیعہ اس طرح سے اکٹھا ہو گئے تھے کہ دربار خلافت انہیں پہچان نہیں پاتا تھا،