غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی امجد عباس کا کہنا تھا کہ 23 مارچ وہ دن ہے، جو ہمیں ان مقاصد کی یاد دلاتا ہے، جن کی خاطر الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا۔ الگ ملک کا مطالبہ اسلامیان برصغیر کا تھا، جسے عملی شکل دے دی گئی۔
ایرانی صدر رئيسی نے صدر عارف علوی کے نام اپنے پیغام میں دونوں ممالک کے مضبوط اور مستحکم تعلقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر تاکید کی۔
ان کا کہنا تھا آج یوم قرارداد پاکستان کے موقع پر ہر پاکستانی کو خود سے یہ عہد کرنا ہوگا کہ فقیدالمثال قربانیوں سے حاصل کردہ اس وطن کی سالمیت پرآنچ نہیں آنے دیں گے ہمارے بڑوں نے قیام پا کستان کے وقت جو خواب دیکھے تھے ،اس میں حقیقت کا رنگ بھر نے کے لیے قوم کو متحد ہوکر اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا ،ملک کو بدحالی کی دلدل سے نکال کر خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں خلوص نیت سے جدوجہد کرنی ہوگی۔
پاکستان کا حصول محض کسی زمینی ٹکڑے کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد ایک ایسی اسلامی مملکت کا قیام تھا جو اپنے فیصلوں میں آزاد ہو۔ جس کے داخلی و خارجی فیصلے قومی مفادات کے تابع ہو۔گزشتہ ستر سالوں سے عالمی استکباری طاقتیں پاکستان کے معاملات اور ہمارے دیگر ممالک سے تعلقات کو اپنی مرضی کے تابع دیکھنے کی متمنی ہیں۔
یہ دن 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے جس کی روشنی میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر کیا۔ یہ قرارداد لاہور منٹو پارک میں میں پیش کی گئی جہاں اس کی یادگار کے طور پر مینار پاکستان تعمیر کیا گیا۔
کل 23 مارچ کو جامعتہ المنتظر کے 68 ویں سالانہ جلسے کی تقریبات منعقدہوں گی۔
22 مارچ کو وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے مرکزی مجلس اعلی اور مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا
محمد علی سدپارہ نے ہر بلند پہاڑ کو سر کرنے کے بعد پاکستان کا ہلالی پرچم کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کا علم لہرا کر خود کو حسینی اور پاکستانی ہونے کا ثبوت دیا اور امام حسین کا نام کوہ پیمائی کی دنیا میں مشہور کردیا۔
23 مارچ کے دن برصغیر کے تمام مسلمانوں نے اسلامی سوچ کے ساتھ ایک منفرد راہ کا تعین کیا اور 7 سال میں اسے حاصل کرلیا.