مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























لبنان کے دارالحکومت بیروت کے امام جمعہ حجت الاسلام سید علی فضل اللہ نے سانحہ پشاور کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مسلم علماء سے درخواست کی ہے کہ اس جنایت اور ان لوگوں کی، جو اس واقعے کے پشت پردہ موجود ہیں، کی مذمت کریں۔
پاکستان میں آیت اللہ العظمیٰ شیخ یعقوبی کے نمائندہ حجۃ الاسلام شیخ ہادی حسین نجفی نے لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں امامیہ مسجد کے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔
رپورٹ کے مطابق علمائے کرام نے لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں امامیہ مسجد کے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت اور شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے جاری بیان میں پشاور میں کئے گئے شیعہ مسجد پر حملے اور نمازیوں کے قتل عام کی سخت مذمت کی ہے۔
جامع مسجد کوچہ رسالدار پشاور میں بے گناہ محب وطن نمازیوں کو جس بیدردی کے ساتھ خون میں نہلایا گیا وہ فرقہ واریت پر مبنی اسی سوچ اور پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے جسے وطن عزیز میں ایک طویل عرصے سے پھلنے پھولنے اور امت مسلمہ میں تفرقہ ڈالنے کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ مکتب تشیع کی جانب سے بارہا نشاندہی کئے۔
خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے جامعہ سراجیہ نعیمیہ اور تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیراہتمام پریس کلب سے ایوان اقبال تک ریلی بعنوان ’’پیغام شرم وحیا مارچ‘‘ نکالی گئی۔
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت و ریاست آج تک اس امر کی نشاندہی نہیں کر سکی کہ اس دہشتگردی کیلئے کون سے عوامل ہیں، وہ اتنے طاقتور ہیں کہ جب چاہیں، جہاں چاہیں پاکستانی عوام کو دہشتگردی کا نشانہ بنا لیں۔
گورنر ہاوس میں کانفرنس سے خطاب میں منہاج الحسینؑ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عراق میں جب داعش نے شیعہ، سنی اور مسیحی خواتین کو کنیزیں بنا کر بازار میں فروخت کیلئے پیش کیا تو آیت اللہ سیستانی نے اپنے مقلدین کو حکم دیا کہ وہ بلاتفریق مذہب و ملت دین و عقیدہ تمام قیدی عورتوں کو پیسے دے کر خریدا جائے اور ان کو عزت و تکریم کیساتھ ان کے گھروں میں پہنچایا جائے، اور اس حکم پر عمل کیا گیا، یہی وہ سیرت النبی(ص) کا عملی مظاہرہ تھا۔
المصطفیٰ یونیورسٹی کے کلچرل ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر حجت الاسلام و المسلمین رضائی نے شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آپ کو امام خمینی کے راستے کا راہی قرار دیا اور کہا کہ اگر شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی اور دیگر شہداء کے وصیت نامہ کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ تمام شہداء تمام تر فاصلے اور دوریوں کے باوجود ایک نظریہ اور ایک فکر کے حامل تھے۔