صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























انہوں نے کہا: اس سانحہ میں عالمی سطح پر وطن عزیز کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔ دنیا میں بجا طور پر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر اس ملک میں معلم ہی محفوظ نہیں تو پھر کون محفوظ ہے؟۔
مَنْ حَفِظَ مِنْ شيعَتِنا ارْبَعينَ حَديثا بَعَثَهُ اللّهُ يَوْمَ الْقيامَةِ عالِما فَقيها وَلَمْ يُعَذِّبْهُ.”
امیرالمومنین(ع) یونیورسٹی اہواز کی پروفیسر کا کہنا تھا کہ رسولوں کو ہمیشہ سے مخالفین کا سامنا رہا ہے جن میں سر فہرست ذخیرہ اندوز، غاصب حکمران، راہب اور ویسے افراد جن کیلئے طبقاتی تفریق ضروری ہے ایسے افراد مومنوں کے ایمان کو کمزور کرنے کا سبب ہیں کہ جن کیلئے خداوند عالم نے دردناک عذاب کا وعدہ دیا ہے۔
امام جمعہ اهواز نے کہا کہ اولیاء الٰہی علیہم السلام عید سعید فطر کی صبح سے ہی اپنا مراقبہ شروع کر دیا کرتے تھے۔ اپنے تمام اعضاء و جوارح کی مراقبت کرتے تھے، تاکہ گناہ میں مبتلاء نہ ہو جائیں۔ رمضان کا مہینہ عبودیت و بندگی کی پریکٹس کا مہینہ تھا، لہٰذا جو کچھ اس مہینے میں خدا سے کسب کیا ہے اس کی حفاظت ضروری ہے۔
استادِ حوزہ علمیہ قم نے مزید کہا کہ روایت میں آیا ہے کہ خداوندعالم بداخلاق شخص کو توبہ کی توفیق نہیں دیتا، کیونکہ ایسا شخص جتنا بھی توبہ کرلے اپنی بداخلاقیوں کی وجہ سے دوسرے گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اس موقع پر ایرانی علمائے کرام کی آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی سے ملاقاتیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا واقعہ میں 7 اساتذہ اور روڈ پر ایک دوسرا شخص شہید ہوا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا گیا ہے۔ تمام اساتذہ کا تعلق مکتب اہلبیتؑ ہے تھا۔ پاراچنار کے لوگوں نے دہشتگردوں کے ہاتھوں پہلے بھی بہت نقصان اٹھایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اکثر اوقات ہم طالب علم اور علماء ان آیات کا مخاطب قرار پاتے ہیں، لہٰذا ہم جب منبر پر جائیں اور وعظ و نصیحت کریں تو ہمیں ان آیات کو مدنظر قرار دینا چاہیئے اور انہیں دہراتے رہنا چاہیئے۔
واضح رہے کہ حجت الاسلام والمسلمین سپہری حوزہ علمیہ کے اعلیٰ سطحی دروس کے استاد اور حوزه علمیه صوبۂ زنجان کے طلاب و فضلاء کی انجمن کے نمائندہ بھی ہیں۔