صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی شاعری کا یہ خاصہ ہے کہ وہ ہر دور کے لیے جاذب اور رہنما ہےحکیم امت کی وہ انقلابی شاعری جس میں مسلمانوں کی غیرت و حمیت ان کے مقام و مرتبہ اور یہود و نصارٰی کی سازشوں کو بے نقاب کیا گیا ہے
اقوام متحدہ جیسا ادارہ سامراج اور ان قابض قوتوں کے سامنے انتہائی بے بس او ربے کس نظر آرہاہے ،پوری انسانیت اس ظلم و جبر پر چیخ اٹھی ہے مگر افسوس انتہائی تباہی و بربادی کے باوجود دباﺅ ڈالنے والے خاموش ہیں ،
اس پروگرام میں ایران، بحرین، شام اور افغانستان کے شعراء نے غزہ میں صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت اور فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں اپنے اشعار پیش کئے، اس پروگرام کو براہ راست فلسطین اسکوائر (میدان فلسطین) پر بھی نشر کیا گیا، اس تقریب میں حمید اصغری بھی بطور ناظم موجود تھے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ سامراج نے اپنے ناجائز بچے کے تحفظ کےلئے اس بوکھلاہٹ کا شکار ہے کہ وہ تمام بین الاقوامی قوانین اور روایات کو روند چکاہے بلکہ اپنے منصوبوں کو خاک میں ملتا دیکھ کر بد مست ہاتھی کی طرح پاگل ہوچکاہے
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹس ہیں کہ ہر چند منٹس میں ایک فلسطینی بچہ شہید ہورہاہے اور اب شہدا کی تعداد گنتی سے بھی باہر ہوتی جارہی ہے
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر امریکی امداد نہ ہو تو صہیونی حکومت چند دنوں میں ہی مفلوج ہوکر رہ جائے گی۔ عالم اسلام کو چاہئے کہ صہیونی حکومت کا بائیکاٹ کرکے غزہ میں جاری جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے۔
مغربی ممالک اس عمل کی حمایت اور عرب ممالک شرمناک خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ایسے میں لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ کے خطاب کی خبر آنے سے صہیونی ایوانوں میں کھلبلی اور مکڑے کے جالے میں زلزلہ آجاتا ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کراچی ڈویژن کی جانب سے منعقدہ عظیم الشان فلسطین کانفرنس کا انعقاد بھوجانی ہال سولجر بازار میں ہوا،
جامع علی مسجد جامعہ المنتظر میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ کشمیر میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح ذبح کیا جا رہا ہے۔ فلسطین میں گھروں کو تباہ اور پورے کے پورے خاندانوںکو شہید کیا جارہا ہے مگر اسرائیل کسی کی بات ماننے کو تیار نہیں ۔