یورپی پارلیمنٹ کے سابق رکن کا اٹلی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ایرانی پرچم لہرا کر، ایران کی حمایت کا اعلان
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
صدر مملکت عارف علوی نے اپیل کی کہ بزرگ افراد عبادات گھر پر سرانجام دیں۔ عارف علوی نے کہا کہ علماء لوگوں کو ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ اپنانے کی تلقین کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں حضور نبی کریم ص کی وبا سے بچنے کے لیے دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
حجۃ الاسلام مولانا انیس الحسنین خان نے کہا کہ شیخ الجامعہ کی خدمات کو اجاگر کرنے اور نوجوانوں کو ان کی سیرت سے آگاہ کرنے کے لیے اس پروگرام کا انعقاد کیا ہے۔اتنے بزرگان کا ان کے لیے منعقد پروگرام میں جمع ہونا آپ کی خدمات کا اعتراف ہے۔کسی ایک پروگرام میں ان کی شخصیت پر مکمل روشنی ڈالنا ممکن نہیں،ہر میدان میں آپ کی خدمات ہیں۔آپ مدرس،خطیب اور مصنف تھے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے رہنما نے کہا کہ ہمارے لاپتہ افراد کا مسئلہ سیریس ہے۔ تعجب ہے کہ فیملیز دھرنا دئیے بیٹھی ہیں اور حکومت ٹس سے مس ہونے کے لئے تیار نہیں ہے۔ البتہ ممکن ہے حکومت کے ہاتھ میں چیزیں ہوں۔ جن کے ہاتھ میں ہے میں ان سے کہتا ہوں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد تم کیا کرو گے جب تمہارے ہاتھ سے اختیار چلا جائے گا۔ پھر مرنے کے بعد قبر میں کیا کروگے۔
اسلام دشمن طاقتوں نے ہمارے علمائے ما سلف اوران کی سیرت کوعوام کی نظروں سےدوررکھنےکی کوششیں کیں تاکہ عوام ہدایت سےدوررہےاورانہیں علماء کی قدرومنزلت کا احساس نہ ہونے پائے۔
حجت الاسلام محمد جواد حافظی نے اپنے تعزیتی پیغام میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کی ہمشیرہ کے انتقال پر غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے
جامعۃ المنتظر انتظامیہ کی جانب سے کورونا ایس او پیز کو فالو کرتے ہوئے شہریوں سے رسم قل میں شرکت کی استدعا کی گئی ہے۔
حضرت خدیجہؑ عزت واحترام، دولت وثروت اورعلم وعرفان میں بلندمنزلت کی مالک تھیں، آپ ؑکی پاکیزگی اور عظمت کا یہ عالم تھا کہ وہ پیغمبر اکرم کی پہلی شریکہ حیات بنیں اور جب تک زندہ رہیں، تنہا ام المومنین اور پیغمبر اکرم کی شریکہ حیات رہیں
اوقاف حسینی میں خرد برد کی سزا سے بچنے کے لئے شیعہ وقف بورڈ اترپردیش کے سابق چیرمین نے تمام حدوں کو پار کر دیا، اپنے مسائل کو چھپانے کے لئے دوسرے کئی مسائل کھڑے کرنے کی ناکام کوششیں کیں،
ہمیں امید ہے علامہ صاحب مکتب تشیع کی نمائندگی احسن انداز میں کریں گے۔