یورپی پارلیمنٹ کے سابق رکن کا اٹلی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ایرانی پرچم لہرا کر، ایران کی حمایت کا اعلان
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
امام خمینی ؒ کی عظیم شخصیت نے جہاں ایران کی عوام کو قدیم زمانے سے چلے آنے والے فاسد بادشاہی نظام سے نجات بخشی وہیں پوری دنیا کیلئے ایک مشعل راہ کی حیثیت سے افق کے عالم پر نمودارہوئی
امام خمینی نے اس وقت ملت ایران کو اغیارکی قید سے نجات دلائی جب تمام سیاسی طاقتیں دین کو مٹانے کی کوشش میں مصروف تھیں ، آپؒ نے ایسے نظام کو قائم کیا جس کی بنیاد صالحیت اور اخلاقی اقدار پر تھی۔
مدیر دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان (قم المقدسہ) حجۃ الاسلام سید ظفر عباس نقوی نے پروگرام کے منتظمین، شرکا اور تمام تنظیموں کے نمائندوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ظالم کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور ان کے مظالم کا پردہ چاک کرنا قرآنی دستور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قم کی سرزمین پر پاکستانی قومی اور علاقائی تنظیموں کا یہ عظیم اجتماع اتحاد اور اتفاق کا عظیم مظاہرہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی جس مقصد کے لئے بنائی گئی اب اس کا کچھ نہیں پتہ۔غیر موثرہوچکی ہے، اب بھی یورپی یونین کے اصرار پر امریکی صدر جنگ بندی کے لئے مجبور ہوا۔ دیگر چند مسلمان ممالک نے کچھ آوازبلند کی۔ مسلمان اب بھی ہوش میں آئیں ، اللہ کی طرف رجوع کریں۔ سابقہ امتوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ جو قوم اللہ کو بھلا دیتی ہے تو اللہ بھی اسے بھلا دیتا ہے اور وہ مختلف عذابوں، بلاﺅں کا شکار ہوجا تی ہے۔
نجف اشرف کے علمی و معنوی ماحول سے بھرپور استفادہ کیا۔ باب مدینۃ العلم سے کسب فیض کے بعد وطن واپس تشریف لائے تو کئی چیلنج در پیش تھے۔ اس وقت دینی تعلیم و تربیت کے مراکز یعنی مدارس دینیہ انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے جن میں چند ایک کے علاوہ باقیوں میں فاضل اساتذہ کا فقدان تھا۔ دختران ملت کی تعلیم و تربیت کے اداروں کا تو شاید تصور تک نہ تھا۔ مساجد میں ضروری دینی معلومات رکھنے والے پیش نمازوں کی بھی سخت کمی تھی۔ عوام تک دین پہنچانے کا سب سے موثر فارم منبر حسینی علمی فقر کا شکار ہی نہیں بلکہ انحرافات کی زد میں تھا۔
فلسطینی قوم اور مسلمانوں کے مقدس مقامات نیز بیت المقدس، شیخ جراح اور غزہ پر غاصب صیہونیوں کی وحشیانہ جارحیت کے پیش نظر تمام فلسطینی گروہوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غاصب صیہونیوں کے جرائم روکنے کی کوشش اور ان جرائم کا بھرپور مقابلہ کریں
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ او آئی سی امت مسلمہ کا متفقہ پلیٹ فارم ہے، اسے صرف رسمی اجلاس کی بجائے عملی اقدام اٹھانا ہوگا، او آئی سی حقیقی معنوں میں نمائندگی کا حق ادا کرے کیوں کہ یہ وقت اسی بات کا متقاضی ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی نے کابل میں سید الشہداء اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں کابل میں لڑکیوں کے اسکول سید الشہدا پرحملہ اور اس خوفناک جرم کے نتیجہ میں درجنوں افراد کی شہادت اور زخمی ہونے سے ہر آزاد اور باضمیر انسان کے دل کو تکلیف پہنچی۔
نجف اشرف کے علمی و معنوی ماحول سے بھرپور استفادہ کیا۔ باب مدینۃ العلم سے کسب فیض کے بعد وطن واپس تشریف لائے تو کئی چیلنج در پیش تھے۔ اس وقت دینی تعلیم و تربیت کے مراکز یعنی مدارس دینیہ انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے جن میں چند ایک کے علاوہ باقیوں میں فاضل اساتذہ کا فقدان تھا۔ دختران ملت کی تعلیم و تربیت کے اداروں کا تو شاید تصور تک نہ تھا۔ مساجد میں ضروری دینی معلومات رکھنے والے پیش نمازوں کی بھی سخت کمی تھی۔ عوام تک دین پہنچانے کا سب سے موثر فارم منبر حسینی علمی فقر کا شکار ہی نہیں بلکہ انحرافات کی زد میں تھا۔