غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
اتنا عرصہ گذرنے کے بعد بھی انکے افکار اور نظریات اور تخیلات ہمارے قلوب و اذہان کو منور کررہی ہیں۔
لوگوں کے قلوب پر امام کی حکومت تھی اگر چہ لوگوں کے جسموں پر حکمران حاکم تھے ۔
شیعیان علی ع کے نظام مرجعیت نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے، خود سوزی کی بجائے خود سازی کا درس دیا ہے۔ خود سوز و خود کش حملوں کو فتوی اور حکم کی حد تک منع کیا ہے
جنت عام زاھدوں کے لئے مبارک ہو، شاید ان کی خوشی اسی میں ہو، کہ وہ جنت حاصل کریں، اور بلا شبہ جنت کا حصول کامیابی ہے۔ قرآن نے اس کو کامیابی سے تعبیر کیا ہے۔
اور اس عیسائی عورت کا کلیسا کی دیوار پر لکھا وہ معروف جملہ تو مجھے کبھی نہیں بھولتا کہ جب شیعہ رضا کار فوج داعش کا محاصرہ توڑ کر مسیحی نشین بیجی شہر میں داخل ہوئے اور مسیحیوں کو داعش سے نجات دلوائی تو اس مسیحی عورت نے شہر کے سب بڑے کلیسا کی دیوار پر لکھا: "اے مریم مقدس! آسودہ خاطر سوجائیے؛ اب دوبارہ مسیح صلیب پر لٹکایا نہیں جائے گا، زہرا (س) کے بیٹے ہماری مدد کو آگئے ہیں"
انسانی جسم میں جس طرح پھیپھڑے اہمیت کا حامل ہیں اسی طرح زمین پر درختوں کی اہمیت ہے
امریکی ماہر سیاسیات فرانسس فوکویاما، جریدے فارن افیئرز کے 2019 کے دوسرے شمارے میں، اپنی کتاب "تشخص" کی وضاحت میں لکھتے ہیں"لبرل ڈیموکریسی، بغیر ملی تشخص کے، جو شہریوں کے اشتراکات پر مشتمل ہوتا ہے، وجود میں نہیں آ سکتی۔" (1) نسل اور مشترکہ تشخص کی بنیادوں کے علاوہ، مشترکہ تاریخ بھی ہر قوم کی ریڑھ کی ہڈی اور قومیت کی تشکیل کی بنیاد ہوتی ہے.
وہ صرف مومن ہی نہیں مومن ساز بھی تھے وہ فقط مرد صالح نہیں بلکہ مرد مصلح بھی تھے جو بھی ان سے ایک بار ملا وہ پھر ان کی ذات سے جڑ گیا
ایک مقام پر آپ فرماتے ہیں: خداوند ا! میں اس امت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے تیری عبادت کی ہو۔