غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
آپؑ کی مثال انسانیت کے لئے انسانِ کامل کی ہے۔ہر انسانی و اخلاقی قدر آپ ؑ کی ذات میں اتم طور پر موجود ہے۔
امیر المئومنین کی امامت کی مخالفت کے اسباب وعلل کا عمیق تجزیہ وتحلیل کیا جائے تو سرفہرست یہ نظر آئے گا کہ آپ ع عقلی، شرعی اور انسانی اصولوں پر کار بند تھے
حضرت امیر المومنین(ع) کی سیاست لوگوں کے ساتھ دو طرح کی تھی وہ افراد جو لائق اور قابل تھے ان کو اپنی طرف جذب کرلیتے تھے جیسے مالک اشتر، عمار یاسر(رحمۃاللہ)،کمیل بن زیاد وغیرہ اور جو افراد اس قابل نہیں تھے ان کو اپنے سے دور کردیتے تھے...
تُو تو ہر دین کے، ہر دور کے انسان کا ہے کم کبھی بھی تیری توقیر نہ ہونے دیں گے ہم سلامت ہیں زمانے میں تو انشاء اللہ تجھ کو اک قوم کی جاگیر نہ ہونے دیں گے
روڈلف زیگر : Rudolf Zechner یہ جرمنی کے معروف محقق و مصنف ہیں جو حضرت علی کے بارے میں فرماتے ہیں :صدر اسلام میں علی علیہ السلام بے مثال دانشمندوں میں سے ایک تھے۔ علی علیہ السلام مختلف ممالک خصوصا ایران میں اچھی طرح جانے پہچانے جاتے تھے ۔ جبکہ وہ ایک جوان مرد تھے اور بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ ایک جوان دانشور اپنی زادگاہ و ملک سے باہر معروف ہو اور احترام پیدا کرے ۔
آلوسی بغدادی صاحب تفسیر کہتے ہیں: خانۂ کعبہ میں علی علیہ السلام کی ولادت اقوام عالم میں مشہور و معروف ہے اور ابھی تک کسی نے اس فضیلت کو حاصل نہیں کیا ہے۔ (شرح قصیدہ عبدا لباقی افندی،ص۱۵)
جس کے عدل کی یہ شان تھی کہ اپنے دور خلافت میں اپنی زرہ کے جھوٹےدعوی کے مقدمہ کے قاضی کی عدالت میں ایک معمولی یہودی کے برابر کھڑا ہو گیا اور اپنے خلاف قاضی کے فیصلہ کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کیا۔
کل جنھوں نے اپنے کرشماتی ذھنوں کو بروئے کار لاکر مغربی ممالک کو نور کی لھروں سے نھلا دیا تھا۔ آج وھی اپنے سماج کی تاریکیوں کو ختم کرنے کے لئے انھیں ممالک کے محتاج ھیں۔
اسی لئے تو بروز محشر دیّان بن کر تُو حکم دے گا میں جانتا ہوں، تمام صدیق تیرے در پر کھڑے ہوئے ہیں تو باب حکمت، وحی کا خازن، امم کا ناصح، شرع کا داعی، سنن کا مظہر ترے اوامر حلال پر اور ترے نواہی حرام پر اک دلیل مسکت بنے ہوئے ہیں