غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
مولا کے فرمان یا دیگر آیات و روایات کا ہرگز یہ مراد نہیں ہے۔ مولا خود اس شخص کے بارے میں جو معاشرے کی اچھائی برائی، خیر و شر اور ترقی و تباہی کے سامنے خاموش تماشائی بنا رہتا ہے، فرماتے ہیں: ’’ وَ مِنْهُمْ تَارِكٌ لاِنْكَارِ الْمُنْكَرِ بِلِسَانِهِ وَقَلْبِهِ وَيَدِهِ، فَذلِكَ مَيِّتُ الاْحْيَاءِ.‘‘
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ایران کے اسلامی انقلاب کو عوامی انقلاب مانتے ہیں۔ آپ کے مطابق دیگر تحریکوں اور انقلابات کے مقابلے میں اسلامی انقلاب کی کچھ منفرد خصوصیات ہیں۔ آپ کے مطابق اس انقلاب کو ختم کرنے میں سامراجی طاقتیں ناکام بھی اسی لئے رہیں کہ یہ انقلاب عوام کی طاقت پر ٹکا ہوا ہے، ان لوگوں کی طاقت پر جن کے ایمان، جذبے، عقیدت اور عزم کے سامنے دشمن کا کوئي حربہ کارگر نہیں ہوتا۔
شہداء حیرت انگیز جاذبیت رکھتے ہیں۔ انسانوں پر شہداء کا مقناطیسی اثر تصور سے بالاتر ہے۔ پاک اور نورانی دلوں کے امتحان کے لیے اسے ایک پیمانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایسی ہی ایک شخصیت شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی ہے۔ شہید کی شخصیت کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جنہیں قلم بند کیا جاسکتا ہے۔
مولائے متقین اپنے اس کلام میں ایک ایسے معاشرے کی عمومی صفت کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں جس کی روح ابھی تک اسلامی نہیں ہوئی۔ جس معاشرے کی اکثریت قرآنی تعلیمات اور اسلامی طرز معاشرت کو نہ اپنا چکی ہو تو یقینا ایسے معاشرے میں ایسی ہی طرز فکر پروان چڑھتی ہے۔ زندگی کے معیارات اور اصول بھی اپنا خودساختہ اپناتے ہیں۔ انہی خودساختہ اصولوں میں سے ایک کو مذکورہ کلام میں امام نے بیان فرمایا ہے کہ انسان کی تعریف اور مذمت کا معیار لوگوں کے پاس مال دنیا اور قدرت و نامداری ہے۔ اور مذمت کا معیار بھی فقر و تنگدستی اور گمنامی۔
آ پ کی شب بیداری اور تہجد کا سلسلہ پوری زندگی میں کبھی قطع نہیں ہوا۔حضرت سجادؑ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کی گیارھویں کی شب بھی ان تمام دلسوز مصائب و آلام اور تھکا وٹ کے باوجود بھی میں نے اپنی پھو پھی جان کو جائے نماز پر مشغول عبادت پایا۔
عباسی خلفاء میں سے خصوصا خلیفہ متوکل سب سے زیادہ علویوں اور شیعوں کے ساتھ عجیب دشمنی رکھتا تھا، اس لئے یہ دور تاریخ کا سب سے زیادہ سخت ترین اور سیاہ ترین دور کہا جاتا ہے
آپ نے خود فرمایا:ھلک فی رجلان محب غال ومبغض قال۔یعنی دوگروہوں کی ہلاکت کی نشاندہی کی۔ایک وی حو محبت میں غلو تودشمنی میں عداوت کے مرحلے میں پہنچ جائیں۔
انیس نقاش نے اپنی زندگی کے انہی ایام میں جنوبی لبنان کے علاقوں کفر شعبا اور بنت جبیل میں دو مختلف مزاحمتی گروہوں کو تشکیل دیا جنہوں نے نہ صرف جنوبی لبنان پر اسرائیلی فوجی چڑھائی کے خلاف مزاحمت کی بلکہ آگے چل کر لبنان کی مزاحمتی تحریک کے قیام میں اپنا کردار ادا کیا ۔
شاید تاریخ اسلام کی شخصیتوں میں مظلوم ترین شخصیت آپ کی ذات ہے قدرت اور مظلومیت آپس میں دو متضادصفات ہیں جو جمع نہیں ہوتیں،عموماً طاقتور مظلوم نہیں مگر امیر المومنین علیہ السلام قوت وطاقت کے مالک ہو کر بھی مظلوم واقع ہوئے ہیں۔