جامعہ کراچی میں سالانہ عظیم الشان “یومِ حسینؑ” کا انعقاد/امام حسینؑ کی تعلیمات اتحادِ امت اور کردار سازی کی ضامن، مقررین
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
۔ تحریف کے مسئلہ میں بھی زیادہ تر اس موضوع پر بحث و گفتگو ہوتی ہے اور یہ موضوع فریقین کے درمیان معرکة الآراءہے کہ کیا قرآن مجید میں کوئی چیز کم ہوئی ہے یا نہیں
جب سے ایران چین معاہدے کا اعلان ہوا ہے جمہوری اسلامی ایران کے ازلی دشمن شمار ہونے والے ممالک جیسے امریکہ، اسرائیل کی پوری میڈیا ٹیم اس معاہدے کو دنیا کے سامنے خطرہ بنا کر پیش کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے، استعماری میڈیا ایرانی عوام کو اس معاہدے کے خلاف اکسانے کے لیے ہر ممکن شیطانی حربے استعمال کررہا ہے،
معنویت سے لبریز اورپر لطف ماحول تھا۔زمین کی یہ حالت دیکھ کر فرشتے بھی لطف اندوز ہورہے تھے۔ایسے میں لب پہ بے ساختہ آیا:اے اللہ تیرا شکر کہ تونے مجھے امام زمانہ ،کے چاہنے والوں میں سے قرار دیا۔تونے محبان امام مهدی عج کو کھلے عام اپنی خوشی، اظہار کرنے کا موقع بخشا.
قارئین محترم نابغہ بچے ایسے دماغ کے حامل ہوتے ہیں کہ کم عمر میں ہزاروں قسم کی چیزیں یاد کرلیتے ہیں اور علوم کی مشکلوں کو حل کرتے ہیں اوران کی محیّر العقول صلاحیت لوگوں کو انگشت بہ دندان کردیتی ہے.
امام مہدی زندہ ہیں اور جب خدا اذن دے گا تب ظہور کریں گے اور زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔ امام مہدی کے ظہورپر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔یہ مسئلہ کسی دلیل کا محتاج بھی نہیں ہے . آپ ہی حجت خدا ہیں کہ جس کی وجہ سے زمین قائم ہے۔
حضرت امیر المومنینؑ فرماتے ہیں: ’’عاجز ترین انسان وہ جو بھائی (دوست) حاصل کرنے سے عاجز آجائے۔ اور اس سے بھی عاجز وہ جو پائے ہوئے کو کھو دے۔‘‘
ایران سمیت بعض ممالک من جملہ تاجکستان، افغانستان، پاکستان، ازبکستان سمیت دس بارہ ممالک میں اپنے اپنے انداز سے نوروز منایا جاتا ہے۔ نوروز کو اردو ادب میں جشن بہاراں، جشن جمشید اور جشن فطرت جیسے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے۔ نوروز کو تاریخی اور طبقاتی جشن بھی کہا جاتا ہے.
خلیفہ بنی امیہ ہشام بن عبد الملک حج پر گیا اور طواف کے بعد اس نے حجرِ اسود کو بوسہ دینے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے اپنی پوری دنیاوی شان و شوکت کے ساتھ چل پڑا۔ لیکن لوگ طواف اور اللہ کی تسبیح میں اتنے مشغول تھے کہ بادشاہ کو حجرِ اسود کی طرف جانے نہ دیا اور ہشام کے غلام بھی بے بس نظر آئے۔
حضرت علی زین العابدین ع صورت سیرت کردار گفتار زہد وتقویٰ، عبادت وریاضت ، صبرواستقلال، ضیافت ومہمان نوازی فقراء وغرباء پروری ہر اعتبار سے حضرت علی ع کے مشابہ تھے۔