ایرانی وزیر خارجہ کی دہلی میں برکس اجلاس میں شرکت، 6 ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات
























مظاہرین نے احتجاج کے موقع پر حکومت وقت، انتظامیہ اور سکیورٹی پر مامور دیگر ذمہ داران کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا اور پاراچنار کے مظلومین کو انصاف فراہم کرنے، قاتلوں اور سہولتکاروں کیخلاف سخت اقدامات اٹھانے اور غفلت برتنے والے ذمہ داران کیخلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
سبی میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ پارہ چنار میں سرعام راستے روک کر مسافروں کو قتل کیا جا رہا ہے، جو کہ حکومت اور ریاستی اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پاراچنار اور ضلع کرم میں کشیدہ حالات کا فائدہ کس کو ہورہا ہے؟ کون سے عناصر ہیں جو پاراچنار میں امن نہیں چاہتے؟ میں صوبائی اور وفاقی حکومت کو ایک مرتبہ پھر ہوش کے ناخن لینے کی انتباہ کرتا ہوں۔
بگن اور اوچت میں سیکیورٹی فورسز کی سربراہی میں جانے والے کانوائے میں شامل مسافر گاڑیوں پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر مقامی مسلح دہشتگردوں نے حملہ کیا۔
انہوں نے کہاکہ علامہ نیاز نقوی 27 سال تک ایک نڈر جج کے طور پر ایران میں خدمات سرانجام دیتے رہے ، انہیں بہترین قاضی قرار دیا گیا ۔مرحوم نیاز نقوی انتہائی بے باک اور حق گو عالم دین تھے۔سول حکمرانوں اور فوجی سربراہوں کے سامنے بھی حق بات کہنے سے نہیں ڈرتے تھے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سابق نائب صدر علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی رحمتہ اللہ علیہ کی پہلی برسی کے موقع پر سیمینار رئیس الوفاق آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کی زیر صدارت حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر میں منعقد ہوا۔سیمینار سے ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر، علامہ محمد افضل حیدری، علامہ مرید حسین نقوی،علامہ افتخارحسین نقوی،مولانا محمد باقر گھلو، ڈی جی خانہ فرہنگ ایران آغا روناس، مولانا مخدوم عاصم، اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے ممتاز شیعہ عالم دین اور ایرانی عدلیہ میں پاکستانی جج کی دینی اور ملی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔
شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے وفاق ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ علامہ قاضی نیاز حسین نقوی کی پوری زندگی دینی خدمات میں گزری ہے آپ کا علمی اور دینی گھرانے سے تعلق تھا جس گھرانے کا پورے پاکستان پر احسان ہے۔
سیمینار میں مختلف موضوعات میں سے عظمت علم و علمائ، اتحاد بین المسلمین، جامعتہ المنتظر کی تعمیروترقی ،اساتذہ اور طلباءسے روابط، انقلاب اسلامی اور اسلامک جج کی حیثیت سے کردار ،ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے مختلف مذاہب سے ہم آہنگی اور علمائے اہل سنت سے باہمی تعلقات کے حوالے سے روشنی ڈالی جائے گی۔مرحوم کے مدارس دینیہ کی تنظیمات کے ساتھ روابط اور اندرون و بیرون ملک مدارس دینیہ کے قیام کے حوالے سے بھی علامہ نیاز نقوی مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔
آیت اللہ نظری منفرد نے کہا کہ حجت الاسلام والمسلمین سید نیاز نقوی تقریب مذاہب اور اسلامی وحدت کے لئے پیش پیش رہتے تھے حتی کہ پاکستان کے سنی اور شیعہ علماء میں بھی ایک خاص مقام حاصل تھا۔مرحوم علم و معرفت اور فضیلت سے بھرپور تھے کہ آپ اپنی بابرکت زندگی کے دوران سیدھے راستے پر گامزن رہے۔
قم کی معروف مسجد "امام حسن عسکریؑ" میں بزرگ عالم دین علامہ قاضی نیاز حسین نقوی مرحوم کی پہلی برسی نہایت عقیدت و احترام سے منائی گئی۔