زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























انجمنِ ثقافتی عفاف پاکستان، قائدِ ملّت جعفریہ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، المصطفٰی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی ایک علمی و ثقافتی انجمن،
آیت اللہ بہجت کے بارے میں اکثر لوگ یہی کہتے تھے کہ وہ مخفی چیزوں کو دیکھتے ہیں، لیکن ایسی باتیں ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔ وہ فرماتے تھے کہ اس طرح کی باتوں کی کھوج میں رہنا بری بات ہے۔
حضرت آیت اللہ محمد تقی بہجت ۱۳۳۴ ھ (یا ۱۳۳۲ ھ) میں فومن کے ایک مذہبی خانوادہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں جس گھر میں ان کی پیدائش ہوئی تھی اس کو انہوں نے ایک دینی مدرسہ میں تبدیل کر دیا۔ ۱۶ ماہ کی عمر ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو ان کے والد نے ان کی تربیت کی۔ ان کے والد محمود کربلائی فومن کے علاقہ کے مخصوص بسکٹ بنانے کے ذریعہ کسب معاش کرتے تھے۔
آیت اللہ اعرافی نے کہا ہے کہ بیت المقدس وہی یوروشلم ہے کہ جس میں ادیان الہی کے پیروکار مل جل کر زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ یہ وہی سرزمین ہے کہ جس میں ادیان ابراہیمی(ع) کے پیروکار امن و آشتی اور اپنائیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر زندگی بسر کرتے اور سماجی، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں میں شرکت کرتے تھے۔
توسیع مسجد و امام بارگاہ قصر بتول شادمان لاہور کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب میں علامہ افضل حیدری نے کہا کہ دین اسلام میں مسجد کی بہت بڑی اہمیت ہے، اس کی تعمیر کے حوالے سے معصوم فرماتے ہیں جو شخص دنیا میں اللہ کا گھر بنائے گا اللہ رب العزت جنت میں اس کے لئے گھر بنائے گا۔گویا یہ ایک معاہدہ ہے۔ ہم دنیا میں اللہ کا گھر بنا رہے ہیں اور وہ جنت میں ہمارے لئےگھر بنا رہا ہے۔
عراق کے سیاسی اور مذھبی رہنماء مقتدی صدر نے کہا ہے کہ غاصب اسرائیل سے گٹھ جوڑ کرنے والے عرب حکام صیہونی حکومت سے اپنے تعلقات ختم کریں۔
ایک بیان میں سربراہ جعفریہ الائنس نے کہا کہ فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کی مالی، سفارتی مدد کرنی چاہیئے تاکہ وہ بیت المقدس کی آزادی کی جنگ لڑ سکیں، اگر ظالم اسرائیل کا ہاتھ نہیں روکا گیا تو تمام خطے کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔
فلسطینی قوم ترنوالہ نہیں جسے کوئی بھی آسانی سے نگل لے یہ اسرائیل سمیت اس کے تمام حواریوں کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔فلسطین میں آبادی والے علاقوں پر اسرائیلی حملے اسی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔
انکا کہنا تھا کہ فلسطین میں اسرائیلی ظلم و بربریت ناقابل قبول ہے، عالمی استعمار امریکہ نے فلسطین کی ہزاروں سالہ تاریخ کو ختم کرکے اپنے ناجائز اولاد اسرائیل کو جنم دیا، اوراب تک ان دہشتگرد استعماری غاصب ریاستوں نے انسانیت پر ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا ہے.
انہوں نے کہاکہ فلسطین میں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت سنی العقیدہ ہے مگر پوری دنیا میں فلسطینیوں کے حقوق اور قبلہ اول کی حفاظت کے لیے شیعہ العقید ہ مسلمانوں نے تحریک چلا کر طاغوتی قوتوں کی طرف سے مسلمانوں میں نفاق پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ شعائر اللہ تمام مسلمانوں کی مشترکہ میراث ہے ۔