دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
شیعہ علماءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے حکم کے مطابق 21 مئی بروز جمعة المبارک مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کی مذمت میں صوبے بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے ۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدرعلامہ سید مرید حسین نقوی نے حکومت اوراپوزیشن کے فلسطین پر مشترکہ موقف کو قابلِ تعریف قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ مظلوم فلسطینیوں کی ہر قسمی مدد اور حمایت دینی فریضہ ہے۔اسلامی جمہوری ایران کی طرح عرب ممالک بھی کُھل کر فلسطین کا ساتھ دیں۔ وزیر اعظم عمران خان ،او آئی سی کو اسلامی حمیّت کے تقاضوں کے مطابق اقدام کرنے کے لئے رابطہ کریں۔
جامعۃ المصطفی العالمیہ کے استاد حجۃ الاسلام غضنفر علی حیدری نے دنیا بھر میں تمام مظلومین و مستضعفین اور بالخصوص کشمیر، یمن، برما، ایران، عراق ،پاکستان اور فلسطین کی حمایت پر زور دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ شہید ہمیشہ قوم کی نجات کا باعث بنتا ہے۔
یورپ میں آیت اللہ سیستانی کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین سید مرتضی کشمیری نے افغانستان کے مظلوم شیعوں اور فلسطینی عوام کی شہادت کی مناسبت سے تسلیت پیش کی اور اس ضمن میں اسلامی ممالک کے حکمرانوں، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان گھناؤنے جرائم کی بھر پور مذمت کریں۔
ہم فلسطینی مظلوموں کی حمایت اور دہشت گرد اسرائیل کی شدید مذمت کرتے ہوۓ ہر سطح پر حتی الامکان قدس کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے
انہوں نے کہا ہے کہ ایک طرف سے غاصب صہیونی حکومت بین الاقوامی برادری کی بے حسی ، اسلامی ممالک کے سربراہوں کی مجرمانہ خاموشی اور بعض ممالک کے ساتھ معمول پر لائے گئے تعلقات سے فائدہ اٹھا کر اپنے جرائم کو عروج پر پہنچا رہی ہے ۔ القدس کی توہین کرکے اسے نذر آتش کر رہی ہے، وحشیانہ بمباری کے ذریعے مظلوم اور بیچارہ لوگوں کو گھر سے بے گھر کر رہی ہے، فلسطین کے غیور عوام کی سرکوبی کے لئے ظلم وبربریت کے ذریعے نہتے بچوں اور عورتوں کا بھی بے رحمانہ قتل عام کر کے امت مسلمہ کا دل خون کر رہی ہے۔
آیت اللہ بہجت کے بارے میں اکثر لوگ یہی کہتے تھے کہ وہ مخفی چیزوں کو دیکھتے ہیں، لیکن ایسی باتیں ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔ وہ فرماتے تھے کہ اس طرح کی باتوں کی کھوج میں رہنا بری بات ہے۔
حضرت آیت اللہ محمد تقی بہجت ۱۳۳۴ ھ (یا ۱۳۳۲ ھ) میں فومن کے ایک مذہبی خانوادہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں جس گھر میں ان کی پیدائش ہوئی تھی اس کو انہوں نے ایک دینی مدرسہ میں تبدیل کر دیا۔ ۱۶ ماہ کی عمر ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو ان کے والد نے ان کی تربیت کی۔ ان کے والد محمود کربلائی فومن کے علاقہ کے مخصوص بسکٹ بنانے کے ذریعہ کسب معاش کرتے تھے۔
آیت اللہ اعرافی نے کہا ہے کہ بیت المقدس وہی یوروشلم ہے کہ جس میں ادیان الہی کے پیروکار مل جل کر زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ یہ وہی سرزمین ہے کہ جس میں ادیان ابراہیمی(ع) کے پیروکار امن و آشتی اور اپنائیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر زندگی بسر کرتے اور سماجی، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں میں شرکت کرتے تھے۔