صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























نہایت اعلیٰ پایہ کے مرجع تقلید، آیت اللہ حاج شیخ اسحاق فیاض طاب ثرٰہ کے انتقال کا افسوسناک خبر سن کر مجھے شدید رنج و غم ہوا ہے،میں اس دردناک موت پر حوزہ علمیہ نجف اشرف، ان تمام مقلدین اور معتقدین بالخصوص افغانستان کی مظلوم اور صابر قوم، اور ان کے معزز خاندان سے تعزیت پیش کرتا ہوں
ہم فلسطینی مظلوموں کی حمایت اور دہشت گرد اسرائیل کی شدید مذمت کرتے ہوۓ ہر سطح پر حتی الامکان قدس کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے
انہوں نے کہا ہے کہ ایک طرف سے غاصب صہیونی حکومت بین الاقوامی برادری کی بے حسی ، اسلامی ممالک کے سربراہوں کی مجرمانہ خاموشی اور بعض ممالک کے ساتھ معمول پر لائے گئے تعلقات سے فائدہ اٹھا کر اپنے جرائم کو عروج پر پہنچا رہی ہے ۔ القدس کی توہین کرکے اسے نذر آتش کر رہی ہے، وحشیانہ بمباری کے ذریعے مظلوم اور بیچارہ لوگوں کو گھر سے بے گھر کر رہی ہے، فلسطین کے غیور عوام کی سرکوبی کے لئے ظلم وبربریت کے ذریعے نہتے بچوں اور عورتوں کا بھی بے رحمانہ قتل عام کر کے امت مسلمہ کا دل خون کر رہی ہے۔
آیت اللہ بہجت کے بارے میں اکثر لوگ یہی کہتے تھے کہ وہ مخفی چیزوں کو دیکھتے ہیں، لیکن ایسی باتیں ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔ وہ فرماتے تھے کہ اس طرح کی باتوں کی کھوج میں رہنا بری بات ہے۔
حضرت آیت اللہ محمد تقی بہجت ۱۳۳۴ ھ (یا ۱۳۳۲ ھ) میں فومن کے ایک مذہبی خانوادہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں جس گھر میں ان کی پیدائش ہوئی تھی اس کو انہوں نے ایک دینی مدرسہ میں تبدیل کر دیا۔ ۱۶ ماہ کی عمر ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو ان کے والد نے ان کی تربیت کی۔ ان کے والد محمود کربلائی فومن کے علاقہ کے مخصوص بسکٹ بنانے کے ذریعہ کسب معاش کرتے تھے۔
آیت اللہ اعرافی نے کہا ہے کہ بیت المقدس وہی یوروشلم ہے کہ جس میں ادیان الہی کے پیروکار مل جل کر زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ یہ وہی سرزمین ہے کہ جس میں ادیان ابراہیمی(ع) کے پیروکار امن و آشتی اور اپنائیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر زندگی بسر کرتے اور سماجی، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں میں شرکت کرتے تھے۔
توسیع مسجد و امام بارگاہ قصر بتول شادمان لاہور کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب میں علامہ افضل حیدری نے کہا کہ دین اسلام میں مسجد کی بہت بڑی اہمیت ہے، اس کی تعمیر کے حوالے سے معصوم فرماتے ہیں جو شخص دنیا میں اللہ کا گھر بنائے گا اللہ رب العزت جنت میں اس کے لئے گھر بنائے گا۔گویا یہ ایک معاہدہ ہے۔ ہم دنیا میں اللہ کا گھر بنا رہے ہیں اور وہ جنت میں ہمارے لئےگھر بنا رہا ہے۔
عراق کے سیاسی اور مذھبی رہنماء مقتدی صدر نے کہا ہے کہ غاصب اسرائیل سے گٹھ جوڑ کرنے والے عرب حکام صیہونی حکومت سے اپنے تعلقات ختم کریں۔
ایک بیان میں سربراہ جعفریہ الائنس نے کہا کہ فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کی مالی، سفارتی مدد کرنی چاہیئے تاکہ وہ بیت المقدس کی آزادی کی جنگ لڑ سکیں، اگر ظالم اسرائیل کا ہاتھ نہیں روکا گیا تو تمام خطے کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔
فلسطینی قوم ترنوالہ نہیں جسے کوئی بھی آسانی سے نگل لے یہ اسرائیل سمیت اس کے تمام حواریوں کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔فلسطین میں آبادی والے علاقوں پر اسرائیلی حملے اسی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔