دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
ایرانی معروف عالم دین آیت اللہ حاج شیخ محسن مجتہد شبستری تہران کے امام حسین (ع) اسپتال میں سکتہ قلبی کے باعث دعوت حق پر لبیک کہتے ہوئے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے۔
آج صبح ملک ایران کی ممتاز علمی شخصیات اور ممتاز صلاحیت کے حامل افراد سے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ممتاز ذہنی صلاحیت نعمت خداوندی ہے، اللہ کا عطیہ ہے۔ اللہ کی نعمت کا شکر بجا لانا چاہئے۔ آپ کے ذہن میں پہلا خیال یہی رہنا چاہئے اس نعمت کا آپ کا شکر بجا لانا ہے۔
گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے بزرگ عالم دین،علم رجال کے ماہر اور محقق و مناظر اور کئی کتابوں کے مصنف حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ حسن فخرالدین قلیل عرصہ علیل رہنے کے بعد کل کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری علامہ شبیر حسن میثمی نے مزار قائد پاکستان پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے اعتماد کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انشاءاللہ امت مسلمہ کے مسائل حل کرنے کی جدوجہد اور اتحاد بین المسلمین کے جس سفر کا آغاز ہمارے قائدین نے کیا تھا اسے جاری و ساری رکھیں گے۔
بلتستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین علامہ شیخ حسن فخرالدین کو وادی حسین قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔مرحوم کی نماز جنازہ امام بارگاہ جعفر طیار ملیر کراچی میں ادا کی گئی۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی نے بلتستان سے تعلق رکھنے والے معروف محقق،بزرگ عالم دین علامہ شیخ حسن فخرالدین کی وفات پر گہرے دلی افسوس کا اظہار کرتےہوئے کہاکہ علامہ شیخ حسن فخرالدین کی رحلت مکتب تشیع پاکستان کا بڑا علمی نقصان ہے.
زائر سرائے آستان قدس رضوی" کا میر جاوہ میں افتتاح اس مقصد سے کیا گیا ہے کہ امام رضا علیہ السلام کے زائرین نیز ہر سال سیدالشہدا (ع) کے اربعین کے موقع پر عراق جانے والے زائرین کی خدمت مزید بہتر اور بڑے پیمانے پر انجام دی جاسکے۔
علامہ حسن فخرالدین کا تعلق بلتستان کے علاقہ کواردو سے تھا اور کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔
علامہ شبیر میثمی نے آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی سے جامعةالمنتظر میں ملاقات کی ، ملی اور تنظیمی امور پر ان سے رہنمائی حاصل کی۔