مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
قائدِ ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی سے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل علامہ سید ناظر عباس تقوی اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ نے ملاقات کی
کراچی میں کانفرنس سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ علماء و ذاکرین آپسی اختلافات باہمی گفتگو سے حل کریں، تاکہ اس کے اچھے اثرات عوام پر مرتب ہوں، اس وقت حالات انہتائی مخدوش ہیں۔
اگر حکومت اور انتظامیہ نے ہدایت خلجی کی نیٹ ورک کو ختم نہیں کیا اور مجرموں کو کسی بھی قسم کی سہولت دی تو ملک گیر احتاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
،عراقی ممتاز عالم دین آیۃ اللہ مدرسی نے عراقی مفکرین،علماء اور اہل بصیرت سے انتخابات میں جیتنے والوں کے انتخابی منشور اور پروگراموں کو عملی جامہ پہنانے اور عراق کی ہمہ جہت ترقی کے لئے ایک منصوبہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مادرِ علمی حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر کے زیر سرپرستی چندرائے روڈ لاہور پر واقع بقیۃ اللہ الثائرسکول کا چھوٹے بچے کے ہاتھوں افتتاح کر دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی معیار کے اس سکول میں شہداء کے بچوں، لاوارث،یتیم،غریب اور مستحق بچوں کو مفت تعلیم کے زیورسے آراستہ کیا جائے گا۔
حضرت زینب سلام الله علیها کی ولادت کے وقت، پیغمبر خدا صلی الله علیه و آله سفر پر تھے، امیرالمؤمنین علیه السلام نے آپ کی نامگذاری کے لیے فرمایا:میں پیغمبر پر سبقت نہیں کرسکتا،یہاں تک کہ آنحضرت (ص) تشریف لائے اور وحی کے منتظر ہوئے، جبرئيل نازل ہوئے اور عرض کیا:اللہ آپ کو سلام کہتا ہےاور ارشاد فرماتا ہے کہ: اس دختر کا نام "زینب” رکھیئے ، کیونکہ اس نام کو ہم نے لوح محفوظ میں تحریر کیا ہے۔
بنت علی حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت اور ایران میں منائے جانے والے یوم تیماردار (نرس ڈے) کی مناسبت سے نرسز اور طبی شعبے کے شہیدوں کے اہل خانہ نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔
ورکشاب کے شرکاء کی نمائندگی کرتے ہوئے تین خطباء نے ورکشاب کے بارے اپنے تاثرات بیان کئے۔ انہوں نے اس قسم کے ورکشاب کی ضرورت و اہمیت بیان کرتے ہوئے رئیس جامعہ الکوثر مفسر قرآن شیخ محسن علی نجفی کی اس سلسلے میں کاوشوں کو خوب سراہا۔
دہشتگردی کیخلاف آپریشن کئے گئے، جس سے کئی دہشتگرد مار دیئے گئے، کئی زیرزمین چلے گئے، اس سے دہشتگردی کے واقعات میں کمی آ چکی ہے، لیکن اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے، وہ فکری دہشتگردی کا خاتمہ ہے