مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
علامہ افضل حیدری نے کہاکہ کسی بھی ریاسست کی آزادانہ داخلہ و خارجہ پالیسی ایک خود مختار ریاست کی شناخت ہوتی ہے۔پاکستان کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت یا دباؤ کو قبول کرنا قائداعظم کے مقصد سے بے وفائی اور ریاست سے بددیانتی ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے 25 دسمبر کرسمس کے تہوار کے موقع پر تمام مسیحی برادری کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت پاکستانی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
ملک کی تشکیل میں تمام مکاتب و مسالک سمیت مسیحی برادری نے بھی بانی پاکستان کی اس جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا, کرسمس کے تہوار پر تمام مسیحی برادری کو مبارک باد پیش کرتے ہیں ، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے
عزاداری کے خلاف کاٹی گئی ایف آئی آرز فوری واپس لی جائیں۔ بصورت دیگر مجبوراََ ان کو عوامی اجتجاج کے ذریعے آئینی اور قانونی جدوجہد کا راستہ اپنانا ہو گا
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے یمن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مجاہد و انتہائی کارآمد سفیر جناب حسن ایرلو کی شہادت جیسی موت پر ایک بیان میں تبریک و تعزیت پیش کی۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی، سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری اورنائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے وفاق المدارس اور شیعہ علماءکونسل کے مرکزی نائب صدر حجتہ الاسلام والمسلمین علامہ محمد رمضان توقیر کے جواں سال صاحبزادے یاسر رضا کی وفات پر اظہار تعزیت کیا ہے۔
وفاق ٹائمز کے منیجنگ ڈائریکٹر حجۃ الاسلام والمسلمین محمد حسن نقوی اور چیف ایڈیٹر محمد ابراہیم صابری نے علامہ سید افتخار حسین نقوی کا دفتر میں استقبال کیا اور ان کو وفاق ٹائمز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔
انہوں نے علامہ قاضی نیاز حسین نقوی کو دینی طالبعلموں کے لئے نمونہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ علامہ قاضی صاحب کا تمام تر سہولیات کے باوجود قم کو چھوڑنا ہمارے لئے نمونہ عمل ہے، اتنے سال ایران میں خدمات انجام دینے کے بعد یہاں سے پاکستان چلے گئے اور وہاں بھی جراتمندانہ اقدامات کیے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے عالمی یوم یکجہتی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہاکہ اقوام متحدہ جسے دنیا کی رہنمائی کرنا تھی، جسے مظلوم کاساتھ اور ظالم کا ہاتھ روکنا تھا مگر افسوس یہ عالمی فورم صرف بیانات اور مختلف ایام کے مختص کرنے تک رہ گیاہے، اقوام متحدہ کو کم از کم اس عالمی یوم یکجہتی کی نسبت سے مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حق میں اپنی منظور کردہ قراردادوں کےلئے ہی جرات مندانہ اقدام اٹھانا چاہیے ۔