مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
تفصیلات کے مطابق وفاق ٹائمز کے منیجنگ ڈائریکٹر حجۃ الاسلام والمسلمین محمد حسن نقوی ، قم میں وفاق المدارس کے مدیر علامہ علی اصغر سیفی اور چیف ایڈیٹر محمد ابراہیم صابری نے علامہ سید مرید حسین نقوی کا دفتر میں استقبال کیا اور ان کو وفاق ٹائمز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔
وفاق ٹائمز کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظرلاہور میں سہ ماہی امتحان کا انعقاد کیا گیا۔
ملاقات میں شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی، مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی اور سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ بھی شامل تھے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی نےکہا کہ توہین رسالت(ص) سے متعلق روسی صدر کا بیان خوش آئند ہے۔
پوری تاریخ میں معاشرے میں اتحاد و یکجہتی پیدا کرنے میں انبیاء علیہم السلام کا کردار ناقابل تردید رہا ہے۔ انبیاء میں سے ہر ایک نے ان تعالیم اور بہت سی دوسری تعلیمات کی مدد سے انسانی معاشرے کے ایک بڑے حصے میں اتحاد و وحدت کو ایجاد کیا ہے۔
کورونا ویکسین کی تیسری خوراک لینے کے بعد آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے کہاکہ لوگوں کو اس بات پر بھی توجہ دینی ہوگی کہ جسم کی صحت کو برقراررکھنا نماز جیسے فرائض میں سے ایک ہے۔
کتاب میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی حالت زندگی،عہدے اور مختلف شخصیات کے ان کے بارے میں تاثرات سمیت پاکستانی اور ایرانی مدارس میں علمی و ثقافتی اور دینی خدمات اور سرگرمیاں شامل ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ روسی صدر کا بیان نہ صرف خوش آئند بلکہ انہوں نے دنیا کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کرائی ہے کیونکہ ہر کچھ عرصہ بعد آزادی اظہار کے نام پر توہین و اہانت کی جاتی ہے آزادی اظہار اور اہانت میں فرق، تمیز کرنا لازم ہے، آزادی اظہار کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ مقدس ہستیوں کی توہین کی جائے۔
سید حسن نقوی:پاکستان سے ہم نے تقریباً 20 طلاب کو داخلہ دیا اور تقریباً 1393 شمسی میں باقاعدہ افتتاح ہوا اور یہاں کلاسس شروع ہوئیں۔ہر سال ہم تقریباً 20 ، 25 طلاب کو پاکستان سے باقاعدہ طور پر امتحان لے کر داخلہ دیتے ہیں اور یہاں سے ابھی تک تقریباً 35، 40 طلاب فارغ التحصیل ہوئے ہیں چونکہ کارشناسی کے بعد یہاں ارشد کا کوئی سسٹم موجود نہ تھا لذا طلاب دوسرے مدارس میں ارشد کیلئے چلے جاتے ہیں اور اس طرح ہر سال تقریباً 10 سے 15 طلاب ایم فل کے انٹری امتحانات میں شرکت کرتے ہیں اور بہترین انداز میں یہاں سے کامیاب ہوکر فارغ ہوجاتے تھے اور ابھی ہمیں ایم فل کی کلاسز شروع کرنے کا موقع ملا ہے۔