صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
امام خمینی ایک نڈر سپاہی تھے جن کی کوششوں سے تشیع کا خصوصا اسلام کا حقیقی تعارف اور مثبت تصویر لوگوں تک پہنچی ان کی اسلام کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
امام خمینی نے اس وقت ملت ایران کو اغیارکی قید سے نجات دلائی جب تمام سیاسی طاقتیں دین کو مٹانے کی کوشش میں مصروف تھیں ، آپؒ نے ایسے نظام کو قائم کیا جس کی بنیاد صالحیت اور اخلاقی اقدار پر تھی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ "رضا رمضانی" جو حالیہ دنوں عراق کے دورے پر ہیں نے گزشتہ روز نجف اشرف میں آیت اللہ العظمیٰ شیخ بشیر نجفی سے ملاقات کی ہیں۔
اگر رہبر انقلاب اسلامی حضرت روح اللہ الموسوی امام خمینیؒ کی شخصیت کا عمیق تجزیہ کیا جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں معاشی، سیاسی، اقتصادی اور دیگر بنیادوں پر آنے والے انقلابات اکثر مواقع پر انقلاب کے رہبر کے منظر سے ہٹنے کے بعد تدریجاً زوال کا شکار ہوئے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس انقلاب کی قیادت نے انقلاب تو برپا کردیا ہو لیکن اس کے ذریعہ عوام کیلئے کوئی مستقل نظام نہ چھوڑا ہو یا پھر متبادل قیادت فراہم نہ کی ہو جس کی وجہ سے وہ انقلاب اس شخصیت کے ساتھ ہی زوال پذیر ہوگئے۔
حجۃ الاسلام محمد شیخ الاسلامی نے خواہران کے تعلیمی ادارے "معصومیہ ہائیر ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ" کے سربراہ حجۃ الاسلام عشرتی سے ملاقات میں کہاکہ اس ادارے کی تعلیمی خدمات اور مقام کے پیش نظر ہمیں یقین ہے کہ دینی تبلیغ کے میدان میں دینی طالبات اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
مرجع عالی قدر کی اسلامی، سیاسی، سماجی اور انقلابی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعزیتی کانفرنسیں اور سیمینارز منعقد کئے جائیں گے۔ اس حوالے سے 4 جون، نماز جمعہ کے بعد مولانا ڈاکٹر سید محمد نجفی جامع علی مسجدحوزہ علمیہ جامعہ المنتظر ماڈل ٹاون میں مجلس ترحیم سے خطاب بھی کریں گے۔
حزب اللہ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری شیخ نعیم قاسم نے کہاکہ الحمد للہ ! سید حسن نصر اللہ بخیرو عافیت ہیں،پچھلے چند دنوں سے ان کی طبیعت ذرا ناساز تھی اس لئے انہیں دو تین دن تک آرام کرنے کی ضرورت تھی، لیکن سید کے تمام چاہنے والے جنوب لبنان کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر ان کی تقریر سننے کے منتظر تھے ، اگر وہ تقریر نہ کرتے تو لوگوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات اٹھتے، اس لئے انہوں نے مکمل صحت یابی سے پہلے ہی خطاب کیا تاکہ اس اہم موقع پر اپنے چاہنے والوں کے درمیان رہیں۔ اب الحمد للہ ان کی حالت بہت بہتر ہے۔
دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ قم کے مدیرحجۃالاسلام سید ظفر علی شاہ نقوی صاحب نے علامہ شیخ غلام حسین سحر بلتستانی کی وفات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علامہ سحر بلتستانی کی وفات سے بزم علم وادب کے چراغ بجھ گئے اور علاقہ ایک عالم باعمل اور شاعر و ادیب سے محروم ہوگیا ۔شیخ سحر بلتستانی میدان علم وادب کے مایہ ناز ،مجاہداورمتقی عالم دین تھے۔ وہ حسن اخلاق اور زہدو پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے ۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کی 32 ویں برسی کے موقع پر جمعہ 4 جون کو ٹیلی ویژن کے ذریعے قوم سے براہ راست خطاب کریں گے۔