صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
مجمع طلاب شگر اور دیگر تنظیموں کیجانب سے منعقدہ پروقار تقریب سے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا کہ امام خمینی دنیا اور اسکی چمک و دمک کو پس پشت ڈال کر اللہ کے راہ میں نکلے، جسکی وجہ سے اللہ نے انکو بے شمار کامیابیوں سے نوازا اور آپ عالمی استکباری طاقتوں کو شکست دیکر اسلام کو اجتماعی زندگی میں پیادہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔
آج امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرزند جسے زمانہ خمینی بت شکن کے نام سے جانتا ہے اس مرد قلندر نے آئمہ کی سیرت طیبہ پر عمل کرتے ہوئے ظالموں جابروں کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور ایک عظیم ملت کو انکے چنگل سے آزاد کیا.
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بانی انقلاب اسلامی امام خمینی (رح) کی 32 ویں برسی کے موقع پر ٹیلی ویژن سے اپنے براہ راست خطاب میں فرمایا کہ آج پورا ایران امام خمینی (رح) جیسی عظیم شخصیت کی یاد میں سوگوار و عزادار ہے۔ آپ نے فرمایا کہ امام خمینی (رح) کا ارادہ مضبوط اور مستحکم تھا اور خرد مند اور دور اندیش تھے۔
امام خمینیؒ نے کبھی اپنے لیے کچھ نہیں چاہا بلکہ اسلامی انقلاب کے بعد اپنی وراثتی زمین بھی غریب کسانوں میں بانٹ دی
امام خمینی نے اس وقت ملت ایران کو اغیارکی قید سے نجات دلائی جب تمام سیاسی طاقتیں دین کو مٹانے کی کوشش میں مصروف تھیں ، آپؒ نے ایسے نظام کو قائم کیا جس کی بنیاد صالحیت اور اخلاقی اقدار پر تھی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ "رضا رمضانی" جو حالیہ دنوں عراق کے دورے پر ہیں نے گزشتہ روز نجف اشرف میں آیت اللہ العظمیٰ شیخ بشیر نجفی سے ملاقات کی ہیں۔
حجۃ الاسلام محمد شیخ الاسلامی نے خواہران کے تعلیمی ادارے "معصومیہ ہائیر ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ" کے سربراہ حجۃ الاسلام عشرتی سے ملاقات میں کہاکہ اس ادارے کی تعلیمی خدمات اور مقام کے پیش نظر ہمیں یقین ہے کہ دینی تبلیغ کے میدان میں دینی طالبات اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
حزب اللہ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری شیخ نعیم قاسم نے کہاکہ الحمد للہ ! سید حسن نصر اللہ بخیرو عافیت ہیں،پچھلے چند دنوں سے ان کی طبیعت ذرا ناساز تھی اس لئے انہیں دو تین دن تک آرام کرنے کی ضرورت تھی، لیکن سید کے تمام چاہنے والے جنوب لبنان کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر ان کی تقریر سننے کے منتظر تھے ، اگر وہ تقریر نہ کرتے تو لوگوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات اٹھتے، اس لئے انہوں نے مکمل صحت یابی سے پہلے ہی خطاب کیا تاکہ اس اہم موقع پر اپنے چاہنے والوں کے درمیان رہیں۔ اب الحمد للہ ان کی حالت بہت بہتر ہے۔
دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ قم کے مدیرحجۃالاسلام سید ظفر علی شاہ نقوی صاحب نے علامہ شیخ غلام حسین سحر بلتستانی کی وفات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علامہ سحر بلتستانی کی وفات سے بزم علم وادب کے چراغ بجھ گئے اور علاقہ ایک عالم باعمل اور شاعر و ادیب سے محروم ہوگیا ۔شیخ سحر بلتستانی میدان علم وادب کے مایہ ناز ،مجاہداورمتقی عالم دین تھے۔ وہ حسن اخلاق اور زہدو پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے ۔