ایرانی وزیر خارجہ کی دہلی میں برکس اجلاس میں شرکت، 6 ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات
























ایک چیز جو ماہ رمضان میں اس ماہ کو مہدوی رنگ دیتی ہے وہ دعائے افتتاح ہے کہ جس کو ہر روز پڑھنے کا حکم ہے اور یہ دعا کہ جس کو روز پڑھنے کا حکم ہے۔
یزید پلید کا دربار کہ جو مولاع کی شہادت کا بہانہ ڈھونڈ رہا ہے لیکن امام سجاد ع اس مصائب کے سخت ترین لحظات میں اپنے رب کے ذکر میں مسلسل مشغول ہیں
امام سجاد ع فرماتے ہیں: وافعلوا فیہ ما سوف یلقیکم بالاعمال الصالحۃ قبل انقضاء الاجل۔۔۔۔(خطبہ شام)
کچھ لوگوں کی عادت ہے کہ اکثر و بیشتر ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں اور اپنا مکمل چیک اپ کرواتے ہیں بلڈ پریشر تو نہیں ہورہا ، شوگر کی کیا کیفیت ہے، خون گاڑھا تو نہیں ہورہا ، بدن میں نامناسب چربی تو نہیں بڑھ رہی ، کہیں کوئی زھر تو نہیں بن رہا، دل کی کیا کیفیت۔۔۔اگر کہیں کوئی بیماری کا آغاز ہوتے دیکھیں تو فورا اسے روکیں جلد علاج و پرہیز شروع ہوجاتا ہے۔
جب ہمیں معلوم ہوچکا ہے گناہ زھر کی مانند ہے اب اگر کسی شخص کو پتہ چلے کہ اس میں زھر سرایت کرگیا ہے تو فورا علاج کرتا ہے کیونکہ اگر تاخیر کرے گا تو زھر سارے بدن میں سرایت کرے گا اور اس وقت پھر علاج مشکل ہو جائیگا
شیعہ امامیہ عقائد کے مطابق مہدی موعود(عج) ان کے بارہویں امام ہیں جو 15 شعبان 255 ھ ق کو سامراء میں پیدا ہوئے۔
جس طرح نبی اکرم (ص) اصحاب اور انصار کی مدد کے بغیر الہی حکومت نافذ نہیں کر سکتے تھے اسی طرح مہدی عج بھی آج اپنے انصار ، یار اور خالص مومنین کا منتظر ہے
جیسے مقدس اردبیلی رح کے واقعہ میں دیکھتے ہیں کہ مرجع دنیائے شیعہ کی علمی و فقہی مشکلات کو دور کرنے کے لیے آپ عج انکے لیے مسجد کوفہ کے محراب میں ظاھر ہوتے ہیں۔
بعض مقامات پر آپکی غیبت کو حضرت خضر ع سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح وہ جسمانی طور پر نگاہوں سے پنہاں ہیں اسی طرح امام زمان عج مخفی و غائب ہیں۔