صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پارہ چنار میں ہونے والی دہشت گردی اور بے گناہوں کا خون بہایا گیا جو کہ تعلیم اور امن دشمنوں کی کاروائی ہے
علامہ محمد رمضان توقیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاراچنار اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں
قوم کے معماروں کو یوں بے دردی سے قتل کرنا تعلیم کا قتل ہے۔ حکومت واقعے کی تحقیقات کرے اور ذمہ داران کو سخت سزا دے
ہم اپنے حقوق کی جنگ شیعہ بن کر نہیں پاکستانی بن کر لڑیں گے، ان شہیدوں کے پاکیزہ خون سے دشمن ناکام ہوگا
سوشل میڈیا پر جاری اپنے مذمتی بیان میں ایس یو سی سربراہ نے کہا کہ اساتذہ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں، دہشتگر د قاتلوں کا سراغ لگا کر فی الفور گرفتار کیا جائے۔
ملکِ عزیز میں سالوں سے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح معاشرے کی آنکھ اور کان سمجھے جانیوالے صحافیوں کو بھی نظرانداز کیا جاتارہا ہے
انہوں نے کہا واقعہ میں 7 اساتذہ اور روڈ پر ایک دوسرا شخص شہید ہوا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا گیا ہے۔ تمام اساتذہ کا تعلق مکتب اہلبیتؑ ہے تھا۔ پاراچنار کے لوگوں نے دہشتگردوں کے ہاتھوں پہلے بھی بہت نقصان اٹھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت کو غلامی قبول نہیں ہے، یہ قوم اب ایک قومی بیانیے پر اکھٹا ہوچکی ہے، آزاد خارجہ وداخلہ پالیسی ہمارے شہید قائد عارف حسین الحسینی رح کا بیانیہ ہے، ہمارے فیصلے ہمارے ملک میں ہونگے کہیں باہر نہیں اور ہماری سر زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی
انہوں نے مزید کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصد جہاں آزادی اظہار رائے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے وہاں ان صحافیوں کی خدمات کو خراج عقیدت بھی پیش کرنا یے جنہوں نے آزادی اظہار رائے کے حق کے لئے جہدوجہد اور حق و سچ کی بالادستی کے لیے کوششیں کیں۔