صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف نے فرقہ واریت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے کی مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسا دنیا میں کہاں ہوتا ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ ساڑھے چار لاکھ افغانی قانونی دستاویزات پر پاکستان آئے اور اب وہ واپس نہیں جائیں گے۔
مذمتی بیان میں حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ اللہ کے حضور پیش ہوکر سر بسجود ہونے والے نمازیوں کو شہیدکرنادہشت گرد وں کا ظالمانہ فعل اور فساکیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتنی سخت سیکورٹی زون میں خودکش کا داخل ہو کر بلاسٹ کرنا کافی حیران کن ہے۔ ایک اور مسجد میں دھماکہ سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کا کسی مذہب،مسلک اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔دہشت گردوں کا صرف ایک ہی مقصد ہے دہشت گردی و قتل و غارت کرنا ان کے نزدیک کوئی مسجد،مسلک قابل تعظیم نہیں۔
شیعہ علما کونسل کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی خصوصی خطاب کرینگے۔
آئی ایم ایف کے مشن چیف مسٹر ناتھن پورٹر نے اس موقع پر اعتماد کا اظہار کیا کہ حکومت 9ویں جائزے کی تکمیل کے لیے آئی ایم ایف کی ضروریات پوری کرے گی
محترمہ معصومہ نقوی کو بتایا گیا کہ خواتین کی بھرپور آمادگی کے اظہار پر اس سال لاہور میں تین جگہوں پر اعمال ام داود کا اہتمام کیا جا رہا ہے ان شاء اللہ ان ایام بیض و اعتکاف میں خواتین کی بھرپور شرکت ہوگی۔
علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ حساس اور ہائی سیکیورٹی زون میں دہشتگردی کا یہ واقعہ سکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے دہشتگرد عناصر کے خلاف کاروائی کریں،
دھماکے کے بعد پشاور کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، زخمیوں اور لاشوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ نااہل حکمرانوں سے ملک کا نظم ونسق کنٹرول نہیں ہو رہا لیکن اس کے باوجود وہ اقتدار کی ہڈی کو منہ سے نکالنے پر تیار نظر نہیں آتے