صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری نے حکومت کی طرف سے دینی مدارس کے بینک اکاونٹس کھلوانے میں حائل سرکاری رکاوٹیں دور کرنے کو احسن اقدام قراردیا ہے اور واضح کیا ہے کہ مدارس اسلا م کے قلعے اور معاشرے کی ضرورت ہیں۔
''انقلاب اسلامی، جدید اسلامی تہذیب کا نقطہ آغاز'' کے عنوان سے منعقدہ تقریب ڈی جی خانہ فرہنگ ایران، راولپنڈی کا کہنا تھا کہ سب سے بڑھ کر دینی قیادت اس انقلاب کی اہم خصوصیت ہے۔ بین الاقوامی دشمنوں کی پابندیوں اور دباو کے باوجود اسلامی انقلاب کے بعد جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، وہ بے مثال ہیں۔
ملاقات میں ملکی سیاسی، معاشی اور مذہبی مسائل کے حل کے لیے اور ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لیے ترجیحی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
قررین نے محسن ملت مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی مدظلہ العالی کے اس تاریخ ساز اقدام پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آنجناب کا یہ اقدام انکی حب الوطنی، اعلی بصیرت، وسیع النظری، فہم و فراست اور علم دوستی کا بین ثبوت ہے۔
واضح رہے کہ تکفیری دہشت گرد گروپ کی ایما پر قومی اسمبلی نے حال ہی میں مقدس ناموں کی آڑ میں متنازعہ قانون سازی کی ہے جس پر ملک بھر میں شیعہ سنی عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے
مقررین نے مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی کے اس تاریخ ساز اقدام پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آنجناب کا یہ اقدام انکی حب الوطنی، اعلی بصیرت، وسیع النظری، فہم و فراست اور علم دوستی کا بین ثبوت ہے۔
مرکزی سیکرٹری عالمات و ذاکرات عصمت بتول اور خانم نسیم زھرا نے دعا تفسیر قرآن اور دیگر موضوعات پر مفید دروس دیے گئے علاوہ ازیں اس سال پہلی مرتبہ لاھور کے تین مختلف علاقوں میں مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی جانب سے عمل ام داؤد کا اہتمام کیا گیا
ایک بیان میں ایس یو سی کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان کی بین الاقوامی ایشوز میں حمایت کی اور مشکل وقت میں پاکستانی قوم کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، پاکستان کی طرف سے ترکیہ کے عوام کو اچھا پیغام جانا چاہیئے کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔
سربراہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کا کہنا تھا کہ حکومت، سماجی، سیاسی، مذہبی تنظیموں کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے، قدرتی آفت میں چار ہزار کے قریب افراد کی موت انسانوں کیلئے عبرت ہے، ترکیہ، شام، لبنان اور دیگر ممالک میں آنیوالے تباہ کن زلزلے پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔