صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
قومی اسمبلی میں پاس کیے گئے متنازعہ بل پر ہمارا واضح موقف یہ ہے کہ یہ بل ملکی داخلی سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا اور ایسی کوئی بھی قانون سازی معاشرے میں بدامنی، فسادات اور تقسیم کا سبب بن سکتی ہے
ایس یو سی خیبر پختونخوا کے رہنماء کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے میں ہمشیہ شیعہ علماء، قائدین اور عمائدین نے مثبت کردار ادا کیا اور ادا کرتے رہینگے۔
ایس یو سی کے مرکزی نائب صدور نے سید ثاقب اکبر کی جلد شفایابی کیلئے دعا کی اور پاکستانی قوم اور دوست احباب سے انکی شفاء کامل و عاجل کیلئے دعا کی پرزور اپیل کی۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے بیان میں ایس یو سی کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ فوجداری ترمیمی بل 298A) 2021) کو مسترد کرتے ہیں، یہ بل ملک میں افراتفری، انتشار، بدامنی اور فرقہ واریت پھیلانے کی سازش ہے لہٰذا اس بل کو کسی بھی صورت منظور نہ کیا جائے۔
ملاقات میں جی بی اور موجودہ ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے علامہ سید ساجد علی نقوی کو گلگت بلتستان میں عوامی حکومتی اقدامات اور معاشی مسائل کی بابت مشکلات سے آگاہ کیا۔
لاہور کی جامع علی مسجد میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں وفاق المدارس الشیعہ کے صدر کا کہنا تھا کہ قرآن آخری کلام الٰہی ہے جس میں ہر خشک و تر کا ذکر ہے۔ حیرت ہے کہ ہم چوبیس گھنٹوں میں سے پانچ منٹ بھی قرآن کو نہیں دیتے۔
اسلام آباد سے جاری کیے گئے بیان میں مجلس علمائے شیعہ پاکستان کے سربراہ نے کہا ہے کہ آئین تمام مسالک کو مکمل آزادی اور ضمانت دیتا ہے، ہر شخص کسی کی توہین کئے بغیر اپنی عبادات کی پریکٹس بلاخوف کرسکتا ہے۔
ایم ڈبلیو ایم خیبر پختونخوا کے صدر کا کہنا تھا کہ جس قانون کے اندر ترمیم کر کے اسمبلی سے منظور کروایا گیا ہے اس میں توہین کی تعریف اور حدود و قیود کی کوئی شرعی حیثیت واضح نہیں کی گئی۔
بل کی منظوری کے وقت قومی اسمبلی کا نہ تو کورم پورا تھا اور نہ ہی اسمبلی کی اکثریت تھی، صرف20سے25 ارکان موجود تھے ، متنازعہ ترامیم منظور کرانا بدنیتی پر مبنی اقدام قرار