صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مرحوم کی علمی خدمات میں ایک اہم اور منفرد کام “فقہ الصادق” شیعہ فقہ کا مکمل انسائیکلوپیڈیا بھی ہے
انہوں نے کہا کہ جہاں استاد قتل ہونے لگیں بے گناہ اور طالبعلموں کو مار دیا جانے لگے بے گناہ وہ معاشرہ انسانی معاشرہ نہیں رہتا وہ درندوں کا اور جنگلی معاشرہ ہو جاتا ہے ۔پاکستان کی تاریخ کے جو دہشگردی کے واقعات ہیں ان میں سب سے زیادہ ظالمانہ حملہ اے پی ایس کا تھا جس میں معصوم بچے جو تحصیل علم کےلئے گھروں سے نکلے تھے اس جگہ مار دیئے گے جہاں وہ علم حاصل کر رہے تھے۔
بھلا چند لمحے ان ماؤں کی سسکیوں پر غور کریں جو آج بھی بلند ہیں، شاید ادارے اور سیاسی رہنماء ان بوڑھے والدین کی چیخ و پکار کو سن لیں، تو ہر صبح کا آغاز 16 دسمبر سے کریں، پاک وطن کے دشمنوں سے کبھی تعلق و مذاکرات کا نہ سوچیں۔ سانحہ اے پی ایس کوئی عام سانحہ نہیں تھا، وہ ایک سو پچاس شہید طلباء پاکستان کے روشن مستقبل تھے، جنہیں بجھا دیا گیا۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا ہے کہ دہشت گردی ایک ایسا عفریت ہے جس کے خلاف پوری دنیا نے آواز اٹھائی اور پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، پاکستان سے دہشت گردی کے حقیقی اور مکمل خاتمے کے لئے سب سے پہلا قدم آرمی پبلک اسکول پشاور کے مظلوم بچوں کے قاتلوں کو بے نقاب کرنا ہے۔
ملک جس ڈگر پر آج پہنچ چکا ہے یہ آئین گریزی خواہشات اور مفادات کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے، اسی سبب مشرقی پاکستان الگ ہوا اور اے پی ایس جیسے بدترین سانحات رونما ہوئے
انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن و حدیث اور علوم آل محمد کی ترویج میں صرف کردی
اس بزرگ عالم دین کے انتقال پر علماء کرام طلاب دینیہ اور مرحوم کے عقیدت مندوں کی خدمت میں تسلیت عرض کرتے ہیں
بزرگ عالم دین کی پاکستان بھر میں تبلیغی، تعلیمی اور تربیتی شعبوں میں گرانقدر خدمات قابل تحسین ہیں
المصطفی آڈیٹوریم جامعۃ الکوثر میں دورہ درس تفسیر قرآن کی تکمیل کی مناسبت سے ایک بابرکت و پروقار محفل کا اہتمام کیا گیا۔