صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی ایک روزہ دور پر کلور کوٹ پہنچے
ان کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں ہونیوالے ظلم و جبر کی داستانیں انسانی حقوق کے زمرے میں کیا نہیں آتیں؟
اہل تشیع رکن سید حسنین عباس گردیزی کی جگہ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر کو مقرر کر دیا گیا ہے۔ جبکہ محمد اسلم ترین کی جگہ حافظ عمار یاسر اور فیض بخش رضوی کی جگہ ناظم الدین کو ولنٹیئر رکن مقرر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلہ میں اللہ کا نظام ہے جو بنی نوع آدم کو حقیقی انسان بنانے کے لئے متعارف کیا گیا ہے۔ ان دونوں نظاموں کے درمیان جنگ جاری ہے. پاکستان میں قومیت، لسانیت اور فرقہ واریت کے نام پر سرمایہ دارانہ نظام نے اپنی پالیسیز کو نافذ کیا۔
انہوں نے علامہ نجفی کی جلد از جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور علامہ نجفی کو قوم کے لیے سرمایہ قرار دیا۔ علامہ ڈاکٹرشبیرحسن میثمی کے ہمراہ وفد میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہدعلی آخونزادہ،سید رفعت زیدی، دانش زاہدی اور محسن شیدائی موجود تھے.
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کی طرف سے سندھ کے مدارس دینیہ کا دورہ جاری ہے ۔ اس حوالے سے مرکزی نائب صدر علامہ مرید حسین نقوی کی قیادت میں علما ءپر مشتمل مرکزی دفتر کے وفد نے کراچی کے مدارس دینیہ کا دورہ کیا۔
جامعہ المجتبیٰ گجرات کے دورے کے دوران مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ، مولانا فیاض حسین مطہری اور دیگر تنظیمی و سماجی شخصیات بھی علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کے ہمراہ موجود تھیں۔
خطاب میں محترمہ معصومہ نقوی کا کہنا تھا کہ دشمنان اسلام کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی کہ دین اسلام کے بنیادی احکامات اور قوانین خدا میں اپنی مرضی کی توجیحات شامل کر کے انہیں یکسر تبدیل کر دیں ، حجاب اسلامی کے خلاف جاری موجودہ سازشی لہر اسی لیے ہے کہ خواتین نام نہاد آزادی کے حصول کے لیے اپنے حجاب سے روگردانی کریں تاکہ اسلامی معاشرہ مزید کھوکھلا اور غیر متحرک و بے اثر ہوجائے۔
لامہ امین شہیدی نے کہا کہ ہم مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے شیعہ بھی ہیں اور مکتب اہل بیتؑ کے پیروکار ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنے عقیدہ کے انتخاب کا پورا حق حاصل ہے بالکل اسی طرح کہ جس طرح کسی دوسرے مکتبِ فکر اور مسلک کے پیروکاروں کو اپنے عقیدہ کے چناؤ کا حق حاصل ہے۔