صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے متنازعہ نصاب تعلیم پر جس نظرثانی کا شیعہ علماء اور اکابرین سے وعدہ کیا تھا، وہ وعدہ وفا نہیں ہوا اور متنازعہ نصاب تعلیم نافذ کرکے ملک میں حکومت خود فرقہ واریت کی فضا پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ کے علماء و اکابرین اور نمائندہ جماعتیں بالاتفاق متنازعہ نصاب تعلیم کو رد کر چکے ہیں۔
انہوں نے جناب سیدہ کی سیرت کے مختلف پہلو بیان کرتے ہوئے کہا کہ سیرت کے روشن پہلووں میں سے ایک یہ ہے کہ اپنے کردار و گفتار کو آراستہ کریں۔
صدر مملکت کا کہنا ہے کہ اپنے بنیادی اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں، مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کو نہیں بھولنا چاہیے، اقوام متحدہ کشمیریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرے۔
علامہ امین شہیدی نے کہا کہ ہمارے ہاں فکری اور نظریاتی تربیت کا فقدان ہے لہذا ہمیں اس طرف زیادہ متوجہ رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے نوجوان مضبوط ہوں۔ نوجوانوں کو تنظیمی بنانے سےزیادہ تربیت یافتہ بنانے کی ضرورت ہے، یعنی تربیت کے نتیجہ میں ایسے نوجوان سامنے آئیں جو حقیقی معنوں میں موحد بھی ہوں اور علیؑ کے شیعہ بھی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہودیوں اور نصرانیوں سے میل جول نہ رکھو۔لیکن افسوس پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک امریکہ، اسرائیل اور دیگر ظالم ممالک کے سامنے جھکے ہوئے ہیں
لامہ شبیر حسن میثمی نے علاقے کے علمائے کرام اور معززین سے گفتگو کرتے ہوئے اس تاریخی حقیقت پر زور دیا کہ ممتاز المدارس کا شمار پاکستان کے ممتاز مدارس میں ہوتا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی تعلیم کے فروغ اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے اسے عصری تقاضوں اور قومی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔
صدر مملکت نے کہا کہ بدعنوانی کی بنیادی وجوہات کا پتہ لگانے اور بدعنوانی کی کارروائیوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے، کرپشن ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کو درپیش ایک سنگین چیلنج ہے،
نئے سال کے لیے آئی ایس او کے سالانہ پروگرام اور تنظیمی ترجیحات سمیت اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ دو روزہ ورکشاپ میں مدیر البصیرہ سید ثاقب اکبر نے تنظیمی موقف اور معاشرے کا جائزہ لیکر تجزیہ و تحلیل کر کے رائے قائم کرنے سے متعلق گفتگو کی۔
حقیقی عاشقانِ رسولؐ، ان کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا، نفسِ نبی (امام علی علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں امام حسن و امام حسین علیہم السلام کو اپنے قلوب کی چراغ سمجھتے ہیں۔ تمام جلیل القدر صحابہ اور ساتھی ہمارے نزدیک محترم ہیں تاہم فضیلت کے معاملہ میں ان کا مقابلہ نبیؐ و آلِ نبیؐ سے نہیں کیا جا سکتا۔