صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ریفرنس دستاویز میں عمران خان کی حاصل کی گئی گھڑی کی اصل مالیت 8 کروڑ 50 لاکھ ،کف لنکس کی اصل مالیت 56 لاکھ روپے، پین کی اصل مالیت 15 لاکھ اور انگوٹھی کی اصل مالیت 87 لاکھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ اس کی رحمت واسعہ کے زیادہ مستحق وہی بنتے ہیں جن کی زندگی اطاعت الٰہی میں گزرتی ہے۔
وفاق ٹائمز، سپریم کورٹ نے لانگ مارچ کے خلاف پہلے سے کوئی بھی حکم جاری کرنے سے انکار کردیا اور کہا ہے کہ حکومت […]
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے درسی کتب میں موجود اہل بیت اطہار رسولؐ خصوصاً محسن اسلام، نگہبان رسالت حضرت ابوطالب علیہ السلام کی شان مبارک میں توہین آمیز الفاظ کی تشہیر کا نوٹس لے لیا گیا۔
وفد میں چیئرمین سید سجاد حسین نقوی، سابق چیئرمین مرکزی ناظم تعلیمات و تبلیغات سید ضیاء حیدر رضوی، مرکزی مسئول شعبہ خواتین سید ندیم آفتاب اور دیگر شامل تھے۔
صدر محفل ممبر جی بی کونسل و نائب مدیر جامعة النجف حجۃ الاسلام شیخ احمد علی نوری نے فن تقریر اور تحریر کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے علماء فن خطابت میں مہارت نہ رکھنے کی وجہ سے اپنے خیالات آنے والی نسل تک منتقل کرنے میں ناکام رہے.
بیان میں کہا گیا کہ 16 اکتوبر2022ء کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد اتحادی حکومت کی قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 174 سے بڑھ کر 176 ہوگئی ہے جبکہ فتنے کے تکبر کی وجہ سے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی 8 نشستیں کم ہوگئی ہیں۔
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہاکہ امریکہ خود جو اپنے جوہری ہتھیاروں سے ماضی میں مختلف ممالک پر حملہ زن رہا ہے وہ کس منہ سے وطن عزیز پاکستان کے دفاع کے لیے بنائے گئے جوہری ہتھیاروں کے متعلق غیر ذمہ دارانہ بیان دے سکتا ہے۔
قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے 11 حلقوں میں ہونیوالے ضمنی الیکشن کے دوران پاکستان مسلم لیگ نون کا صفایا ہوگیا، تحریک انصاف قومی اسمبلی کی 6 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوگئی، ایک پر برتری حاصل ہے، پیپلز پارٹی کے حصے میں دو نشستیں آئیں۔ پنجاب اسمبلی کے تین حلقوں میں سے دو حلقے پی ٹی آئی کے نام رہے جبکہ نون لیگ صرف ایک صوبائی سیٹ جیت سکی۔ یاد رہے کہ اپریل میں سابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی اراکین نے مشترکہ طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔