صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ہم چاہتے ہیں ہمارے فیصلے لندن یا واشنگٹن میں نہ ہوں، ہمیں کوئی کسی کی جنگ کیلئے استعمال نہ کرے، بلکہ ہم اپنے فیصلے خود کریں۔
ملاقات میں خیبر پختونخوا میں ملت تشیع کو درپیش مختلف مسائل کے حوالے سے بات چیت ہوئی، پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماوں نے علامہ سید عبدالحسین الحسینی کو مذکورہ مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی،سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری اور نائب صدر علامہ مرید حسین نقوی نے معروف کشمیری رہنما مولانا محمد عباس انصاری کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے امت مسلمہ بالخصوص کشمیر ی عوام کاعظیم نقصان قراردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس المناک سانحہ میں بیس عبادات گزار مسلمان و مومنین جن میں ماں کی آغوش میں موجود ایک کم سن بچہ بھی شامل تھا، نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ ایک تلخ ترین واقعہ ہے جس میں حرم مطہر کی حرمت کو پامال کرنے کے ساتھ ساتھ عبادت میں مصروف بےگناہ انسانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔
اپنے پیغام میں قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ دنیا میں مساوی انسانی و بنیادی حقوق کی فروانی، ملکوں کے درمیان تنازعات کے خاتمے اور بڑی طاقتوں کے مقابلے میں زیر تسلط ممالک کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا اس کی ذمہ داریو ں میں تھا
یاد رہے کہ گذشتہ شب ایران کے صوبے فارس میں امامزادہ شاہ چراغ کے مزار پر ایک دہشت گرد نے حملہ کرکے 15 زائرین کو شہید کر دیا تھا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق دہشت گردی کا یہ واقعہ ایران کے صوبہ فارس کے دارالحکومت شیراز میں امام زادہ احمد بن امام موسیٰ کاظم کے مزار پر پیش آیا، امام زادہ احمد کا روضہ شاہ چراغ کے نام سے مشہور ہے۔
انہوں نے شہداء کے لواحقین کو تعزیت پیش کی اور مجروحین کی شفایابی کے لئے دعا کی اور کہا کہ مقدس مقامات پر دہشتگردی ان تکفیریوں کی سازش ہو سکتی ہے جو ہمیشہ مسلمانوں میں انتشار و افتراق اور مقدس مقامات کی توہین کے ذریعہ امت کو کمزور کرنے کی ناپاک جسارت کرتے ہیں۔ علامہ عارف حسین واحدی نے کہا الحمد للہ دہشتگرد گرفتار ہو چکے ہیں۔
ارشد شریف کی میت کا ایکسرے اور سی ٹی اسکین بھی کروایا گیا۔
علامہ امین شہیدی نے ملک کے موجودہ تعلیمی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تعلیمی نظام، نصاب اور اس کے ڈھانچہ کو بھی مغرب نے تشکیل دیا ہے اور اسی نصاب کے ذریعہ دیسی لبرلز تیار کیے جاتے ہیں۔ دیسی لبرلز کی مثال "کوا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا" جیسی ہے جن کو نہ سرمایہ ملتا ہے اور نہ خدا و رسولؐ۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں سب سے بڑا چیلنج دین بیزاری کا ہے۔