صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مقررین نے کہا کہ پر امن اور ترقی یافتہ پاکستان ہم سب کی ضرورت ہے لہٰذا ہمارے حکمرانوں کو چاہیئے کہ وہ معیشت کی بحالی اور قرضوں سے لعنت سے نجات حاصل کریں تاکہ پاکستانی عوام کی مشکلات حل ہوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پایا جاسکے۔
انہوں نے اس اجتماع کو "الذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینھم" کے مصداق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اجتماعات ظلمت اور گمراہی سے نکال کر نور کی طرف سفر کرنے کا ذریعہ ہیں جن میں تمام فرقوں کے اکابر، علماء، دانشور حضرات اور عوام الناس کی بلا تفریق شرکت امتِ محمدی کی سب سے بڑی علامت ہے۔
واضح رہے کہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ شبیر حسن میثمی ان دنوں مرکزی وفد کے ہمراہ جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع کے دورے پر ہیں، جہاں وہ مدارس دینیہ کے سالانہ جلسوں سے خطاب کے علاوہ تنظیمی، سیاسی و سماجی شخصیات سے ملاقاتیں بھی کررہے ہی
علامہ شبیر حسن میثمی نے نماز جنازہ کے بعد مرحوم میر بلخ شیر مزاری کی مغفرت کے لیے خصوصی دعا بھی کرائی۔
وہ معاشرہ آزاد نہیں ہو سکتا جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام حسن عسکری ؑ نے اپنی مختصرحیات طیبہ میں بھی دین کی آفاقی تعلیمات کی ترویج و اشاعت اور فروغ کے لئے بے پناہ جدوجہد کی اور اس راستے میں اس وقت کے حکمرانوں کے ظلم و ستم اور قید و بند کی صعوبتیں تک برداشت کرتے ہوئے اپنے مخلصین کے ذریعہ پیغام حق و صداقت عوام تک پہنچایا۔
ایسے سانحات پر کونسل کا موقف ہے کہ یہ سامراجی طاقتوں کے امت مسلمہ کے خلاف ناپاک ہتھکنڈے ہیں تاکہ مسلمان کمزور ہو اور امتِ مسلمہ کو تنازعات میں الجھا کر مضبوط نہ ہونے دیا جائے۔
خیال رہے کہ اس واقعے میں ایک شخص کی موت بھی واقع ہوگئی تھی جبکہ عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت 14 افراد زخمی ہوئے۔ معاملے کی سیاسی جہتوں کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ چوہدری پرویز الہیٰ اس مقدمے میں سینیئر فوجی افسر کو نامزد کرنے کے خلاف ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس معاملے پر کئی ملاقاتیں کی ہیں، جن میں پرویز الہیٰ نے انہیں فوجی افسر کا نام شامل نہ کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے یہ بات زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام ہوش و امن کے ساتھ اس لاقانونیت اور دہشت گردی پھیلانے والے شازشی عناصر پر نظر رکھیں عوام کے سامنے حقائق لائیں جائیں کے اس واقعے میں کون ملوث ہے یہ واقعہ پاکستان کے لئے ایک بڑا سا نحہ ہے احتجاج کرنا ہر جماعت کا آئینی و جمہوری حق ہے۔