صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
دہشت گردی کے واقعات میں فوج، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے ساتھ عوام نے بھی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ملک و قوم کی حفاظت کے لئے متعین سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ قابل مذمت ہے۔ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے سہون شریف مسافر وین حادثے میں 12 بچوں سمیت 20 افراد کی ناگہانی موت پر گہرے دکھ اور غم جبکہ متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
جو شخص صابر و شاکر رہتا ہے جب مرتا ہے تو وہ شہید ہے۔ اور جو شہید ہوتا ہے اس کو حق شفاعت حاصل ہوتی ہے۔
ایس یو سی کے مرکزی نائب صدر نے اپنے ایک بیان میں مرحومین کے لئے مغفرت، بلندی درجات اور زخمیوں کے لئے جلد شفایابی کی دعا بھی کی۔
اس کاروائی سے ایسا لگتا ہے کہ ملک میں پھر ایک بار دہشت گرد آگ اور خون کے کھیل کا دوبارہ آغاز چاہتے ہیں حکومت کو چائیے کہ ایک بار پھر دہشت گردو کو لگام دینے کے لئے بھر پور آپریشن کیا جائے تا کہ آئندہ اس طرح کے دل سوز دہشت گردانہ کاروائیوں سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا: دہشتگرد اور شدت پسند عناصر دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکمرانوں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کاروائیوں کے پیچھے ملک دشمن قوتوں کی سازشوں کو بے نقاب کریں اور پھر سے سر اٹھاتی دہشتگردی سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹا جائے۔
انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردانہ کارروائی میں چھ پولیس اہلکاروں کا شہید ہونا انتہائی تکلیف کا باعث ہے بلاشبہ پولیس اہلکار معاشرے کے تحفظ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
خیبر پختونخواہ کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردوں کی جانب سے پولیس موبائل پر حملہ کرکے پولیس جوانوں کو شہید کرنا دہشت گردی کی بدترین کاروائی ہے
دونوں رہنماؤں نے اس ملاقات کے دوران اہم تنظیمی امور اور ملک میں موجودہ مذہبی و سیاسی صورتحال پر گفتگو اور مشاورت کی، یہ ملاقات اسلام آباد میں ہوئی۔