رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
علام ساجد نقوی نے شہدائے عظمت اسلام کانفرنس کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی
فرقہ واریت کے سدباب کیلئے مرحوم محمد رفیع عثمانی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
صدر مملکت کی منظوری کے بعد سمری وزیر اعظم ہاؤس کو موصول ہوگی جس کے بعد وزارت دفاع کی جانب سے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تقرری کا باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آیات الہی اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قوم یہود کو انتشار اور اختلاف سے رہائی اور نجات دلانے کیلئے اپنی طرف سے پیغمبر بھیجا اور کہا: اللہ تعالیٰ نے طالوت نامی ایک بہادر اور طاقتور جوان جو کہ گلہ بانی کرتا تھا کو بنی اسرائیل قوم کی رہبری کیلئے متعین کیا اور حضرت اشموئیل نبی کو اس کا تعارف کروا دیا۔
صدر کی طرف سے وزیراعظم کی ایڈوائس روکنے کی صورت میں حکومت کا پلان بی سامنے آ گیا،
دوسری جانب، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر ایوان صدر سیکریٹریٹ کو سمری موصول ہوگئی ہے۔ صدر کی منظوری کے بعد آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے تقرر کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا۔
اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کو چیف آف دی آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مولانا سید صفدر حسین نجفی 1932ء میں علی پور ضلع مظفر گڑھ میں پیدا ہوئے اور 3 دسمبر 1989ء کو لاہور میں ان کی وفات ہوئی۔ بظاہر یہ ایک مختصر سی زندگی ہے، لیکن ان کے کاموں کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ ایک شخص کو جوانی کے دو سو سال ملے ہیں اور اس نے ان میں خوب کام کیا ہے۔
علامہ امین شہیدی نے کہا پاکستان میں اسلام دشمن قوتوں نے ڈالرز خرچ کر کے فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دی، آج صورتحال یہ ہے کہ پاکیزگی، معنویت، تقدس، خدا پرستی اور محبت کے جذبات پر عناد، عدم برداشت اور شدت پسندی حاوی ہے۔ معاشرہ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے اس قدر دور کر دیا گیا ہے کہ کھلے عام فحاشی کے پھیلائے جانے پر اعتراض نہیں ہوتا لیکن میلاد کی محافل پر پابندی یا عزاداری کے جلوس کو روکنے کے لئے ایک پورا گروہ کھڑا ہو جاتا ہے۔