صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں زینبی کردار پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔عالمی استکباری قوتیں امت مسلمہ سے ان کی ایمانی قوت چھیننے کے لیے تمام تر وسائل کا بھرپور استعمال کررہی ہیں۔ثقافتی یلغار کے ہتھیار سے نئی نسل کو دین سے دور کیا جا رہا ہے۔
ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ کا کہنا تھا کہ آج جدید دور ہے اور جدید دور میں طرز کے مطابق حصول تعلیم حاصل کر کے نوجوان نسل آگے بڑھے جن قوموں نے ترقی کی انہوں نے جدید علوم سے آراستہ ہو کر ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں کھڑے ہوئے۔ علم ایسی دولت ہے جس کو کوئی طاقت چھین نہیں سکتی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ زاہد بخاری، آخونزادہ خورشید علی انور اور دیگر نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ ملک میں موجودہ ناگفتہ بہ حالات میں بھی مولا حیدرِ کرار کے ماننے والے قائد علامہ سید ساجد علی نقوی کی قیادت میں متحد ہیں۔
اجلاس سے خطاب میں ایس یو سی رہنما نے کہا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں، شرعی قوانین کی خلاف ورزی و معاشرتی برائیوں پر مبنی فلم کی نمائش کسی طور قابل قبول نہیں، مزکورہ اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
ایک بیان میں ایس یو سی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگانے والی شخصیات کے خلاف جب تک گھیرا تنگ نہیں کیا جاتا تب تک دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے مزید کہاکہ کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر گیا ، سب کچھ بدل گیا، مگر آج بھی فلسطینی ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ہیں اور نام نہاد عالمی منصفوں کی دوغلی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیںمگر عالمی ادارے انسانی حقوق کے نام پر اپنے مفادات کی خاطر اقدامات کرتے ہیں مگر جن مظلوم خطوں کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے وہاں ظالموں ، آمروں اور جابروں کی پشت پناہی کرتے ہیں ۔
آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام لوگوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار
انہوں نے کہا کہ انسان کا تعلق خواہ کسی بھی تنظیم سے ہو، نعرہ بازی اس کی جوانی کا تقاضہ ہے لیکن آئی ایس او کے نوجوان صرف نعرہ بازی پر یقین نہیں رکھتے بلکہ شعور، آگہی اور معنویت کے ساتھ فرنٹ لائن پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ پچاس سال گزر جانے کے باوجود بھی یہ پچیس سالہ جوان کی مانند ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ فلسفہ یونان سے عرب دنیا میں منتقل ہوا ، مسلمانوں میں بڑے بڑے فلاسفر پیدا ہوئے،ہمارے زمانہ طالب علمی میں فلسفہ نصابی کتب میں شامل تھا جسے پڑھایاگیا۔فلسفہ کے پیدا کردہ مسائل اور اٹھنے والے سوالات کےلئے علم الکلام ایجاد ہوا ، مسلمان متقلمین نے زبردست کام کیا جو آج تک جاری ہے ۔