صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مولانا سید صفدر حسین نجفی 1932ء میں علی پور ضلع مظفر گڑھ میں پیدا ہوئے اور 3 دسمبر 1989ء کو لاہور میں ان کی وفات ہوئی۔ بظاہر یہ ایک مختصر سی زندگی ہے، لیکن ان کے کاموں کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ ایک شخص کو جوانی کے دو سو سال ملے ہیں اور اس نے ان میں خوب کام کیا ہے۔
علامہ امین شہیدی نے کہا پاکستان میں اسلام دشمن قوتوں نے ڈالرز خرچ کر کے فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دی، آج صورتحال یہ ہے کہ پاکیزگی، معنویت، تقدس، خدا پرستی اور محبت کے جذبات پر عناد، عدم برداشت اور شدت پسندی حاوی ہے۔ معاشرہ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے اس قدر دور کر دیا گیا ہے کہ کھلے عام فحاشی کے پھیلائے جانے پر اعتراض نہیں ہوتا لیکن میلاد کی محافل پر پابندی یا عزاداری کے جلوس کو روکنے کے لئے ایک پورا گروہ کھڑا ہو جاتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف 6 سینیئر فوجی افسران میں سے ایک کو آرمی چیف اور ایک کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مقرر کریں گے۔ صدر مملکت وزیراعظم کی سفارشات کی روشنی میں نام کی توثیق کرتے ہیں۔ جی ایچ کیو کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی فہرست میں شامل افسران کے نام یہ ہی
دوسری جانب آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتی کے لیے جی ایچ کیو کی سمری وزارتِ دفاع سے وزیرِاعظم آفس میں موصول ہوگئی ہے۔ اس ضمن میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ باقی مراحل بھی جلد طے ہو جائیں گے
انہوں نے کہا: ایسے معتدل مزاج، مخلص اور محب وطن رہنما کا خونِ ناحق ارباب اقتدار کی گردنوں پر قرض ہے۔مستقبل میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کا مکمل قلع قمع کرکے ملک کے عوام کو تحفظ اور امن و سکون فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ناعاقبت اندیشوں کو یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ یہ وہ وقت نہیں کہ عوام سے ان کے زمانے کے مقبول لیڈر لیاقت علی خان، محترمہ فاطمہ جناح اور بے نظیر بھٹو کو چھین لیا جائے اور وہ Manageبھی ہوجائے اب وہ وقت گذر چکا اب ایسی کسی بھی حماقت پر بھرپور عوامی ردعمل بھی سامنے آئے گا اورعوام ملک دشمنوں کو معاف بھی نہیں کریں گے۔
ن لیگ کے وکیل نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ ہم نے اس ہفتے پارٹی کا انٹرا پارٹی الیکشن کرانا تھا، لیکن وزیر اعظم کو کورونا ہو گیا۔ اب پارٹی کا 30 دسمبر کو یوم تاسیس اور مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس رکھا ہوا ہے۔ وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ 30 دسمبر کو لازمی انٹرا پارٹی الیکشن کرا لیں گے۔
عدالت نے عمران خان کی طبی بنیادوں پر آج کی سماعت میں حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کی عبوری ضمانت میں 28 نومبر تک توسیع کردی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کی مکمل میڈیکل رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔
کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، مٹیاری، نوابشاہ، خیرپورمیرس، سکھر، گھوٹکی، دادو، شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد، کے این شاہ، جامشور سمت سندھ کے دیگر شہروں سے مجلس عمومی کے اراکین نے شرکت کی۔