صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کانفرنس سے علامہ شیخ شبیر حسن میثمی رکن شریعہ ایدوائزری کمیٹی اسٹیٹ بینک پاکستان،سابق سینیٹر فرید احمد پراچہ،مفتی ارشاداحمداعجاز چیئرمین شریعہ ایدوائزری کمیٹی اسٹیٹ بینک، اشفاق یوسف تولا،محمد اسلام سابق سنیئر جوا ئنٹ ڈائر یکٹر اسٹیٹ بینک آف پاکستان،سید عامر علی، احمد علی صدیقی،فیصل شیخ،احمد صد یقی سمیت بینکنگ سیکٹر سے وابستہ شخصیات نے اظہار خیال کیا۔
علامہ حمید حسین امامی نے مجلس علماء اہلبیتؑ کے دفتر میں مجلس علماء اہلبیت کی کابینہ، تنظیمی اجباب اور دیگر علمائے کرام کے ساتھ ملاقات کی
ترک خبر رساں ادارے کیساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی بنیادی قومی مفادات کے تمام مسائل پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں، چاہے وہ مقبوضہ کشمیر ہو یا شمالی قبرص۔
کجہتی فلسطین ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ دنیا کا سب سے اہم ترین مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ پوری انسانیت سے مربوط ہے۔ مقررین نے کہا کہ عالمی طاقتوں کی کوشش ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کو فراموش کریں اور اس کام کے لئے عرب دنیا کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات قائم کئے جا رہے ہیں لیکن امریکہ اور صہیونی طاقتوں کو یہ بات جان لینی چاہئیے کہ مسئلہ فلسطین پوری انسانیت کا مسئلہ ہے
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے پنڈال پہنچنے پر چاق و چوبند جوائنٹ سروسز گارڈ نے سلامی پیش کی۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے گارڈ آف آنر اور مارچ پاسٹ کا معائنہ بھی کیا۔
پاکستان میں علماء کرام کی محنتوں کی بدولت شیعہ مدارس کا جال پھیلایا جا چکا ہے، یہ ہماری ملی قوت اور عظمت ہے
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے راولپنڈی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے تمام صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پارلیمنٹری پارٹی سے مشاورت کے بعد حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے۔
کُل مسالک علماء بورڈ اور مودت اہلبیت فاونڈیشن کے زیراہتمام جامع مسجد کبریٰ نیو سمن آباد لاہور میں ’’استحکام پاکستان کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں کسی قسم کا انتشار پیدا نہیں کرنا چاہتے، معاشی حالات پہلے ہی بُرے ہیں، توڑ پھوڑ شروع ہوگئی تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے، ہم ملک میں تباہی مچانے کے بجائے کرپٹ نظام سے باہر نکلیں گے، اسلام آباد نہیں جائیں گے، ہم اس کرپٹ سسٹم کا حصہ نہیں بنیں گے۔