صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
عمران خان پر اس مارچ کے دوران حملہ ہونے کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر محکمہ داخلہ نے سکیورٹی انتظامات مزید بہتر کرنے کی ہدایت کی ہے
نئے میر کارواں کا انتخاب ہوا تو پنڈال مردہ باد امریکہ و مردہ باد اسرائیل کے نعروں سے گونج اٹھا۔ کارکن "ڈاکٹر کا نعرہ یاد ہے، امریکہ مردہ باد ہے" کے فلک شکاف نعرے لگاتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات اور سمگلنگ دونوں ایسے عوامل ہیں جو نہ صرف آپس میں باہم ملے ہوئے بلکہ اس کے معاشرے پر براہ راست مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں اور یہ دونوں گھناؤنے جرائم اس وقت انڈر ورلڈ کے نام سے ایک بزنس کی سی حیثیت اختیار نہ صرف کرچکے ہیں بلکہ اس نے براہ راست ریاستوں، عوام پر اس کے برے اثرات چھوڑے ہیں، مہنگائی، چھوٹے کاروباری افراد کو جہاں دیگر عوامل کے باعث مسائل ہیں وہیں سمگلنگ کے باعث بھی کئی چھوٹے بزنس مینوں کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا۔
ملی یکجہتی کونسل کے رہنماء سید ثاقب اکبر نقوی نے کہا کہ قوموں کو اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرنے چاہیئں۔ فکری آزادی کے بغیر استحکام پاکستان کا سفر ممکن نہیں۔ پاکستان کا مستقبل روشن اور مستحکم ہے۔
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان طالبات کا چونتیسیواں سالانہ مرکزی کنونشن قومی مرکز شاہ جمال لاہور میں منعقدہ ہوا، کنونشن میں آئی ایس او سے وابستہ طالبات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی،
علامہ سید محمد تقی نقوی نے جے ایس او کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں ایک نوجوان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا ہے، بالخصوص تنظیمی نوجوان کو معاشرے کی اصلاح کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
عالمی استکباری نظام کی دنیا کے آزاد ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی شرمناک تاریخ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کے افکار کی روشنی میں وطن عزیز پاکستان کو سامراجی مداخلت سے پاک دیکھنا چاہتی ہے۔ پاکستانی قوم کی امریکی مداخلت کے خلاف جدوجہد ملک و قوم کے لئے بہتر مستقبل کی نوید ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی قیادت گریٹر اسرائیل کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اب تک امریکا اور اس کے حواری اربوں ڈالر آگ اور بارود میں جھونک کر بھی اپنے شیطانی منصوبوں میں کامیاب نہ ہوسکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے مشہد مقدس میں علمائے کرام پر حملے اور اب شیراز میں زائرین پر فائرنگ جیسے واقعات ایرانی قوم اور قیادت کے جذبہ جہاد کو کمزور نہیں کرسکتے،
انہوں نے زور دے کر کہا کر کہاکہ جس طرح ریاستی ادارے نے اپنا کردار واضح کیا ہے جسکی نچلی سطح تک بھی اس کی پابندی کی جائے اسی طرح ملکی اور صوبائی سطح کی دیگر ایجنسیوں اور قان نافذ کرنے والے ادارںکو بھی اسی رویہ کو اپنانا چاہیے اور زیادتیوں کا خاتمہ کرکے آئین اور قانون کے مطابق شہریوں سے سلوک کر ناچاہیے تاکہ گھٹن ماحول کا خاتمہ کیا جاسکے ۔