زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























سیمینار سے رکن مجلسِ نظارت آئی ایس او پاکستان آیت الله غلام عباس رئیسی، آئی ایس او پاکستان کے تحت مسجد جمکران قم
جو چیز امام مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی معرفت حاصل کرنے اور آپ کی پیروی کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے اور انتظار کی راہ میں پائیداری و استقامت عطا کرتی ہے ، وہ روحوں اور دلوں کے طبیب (امام مہدی عليہ السلام ) سے ہمیشہ رابطہ برقرار رکھنا ہے۔
تقریب میں مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان علامہ شبیر حسن میثمی صوبائی صدر سندھ علامہ سید اسد اقبال زیدی قمی اور اہلسنت کے مولانا قربان علی جت نے خصوصی شرکت کی۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے آل سعود کی بادشاہت کے ہاتھوں 81 قتل ہونے والوں میں 41 شیعہ مسلمانوں کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وحی ا ور رحمت کی سرزمین پر ایک دن میں درجنوں بے گناہوں کے سر قلم کرنا سفاکیت ہے۔
افسوسناک واقعہ میں شہید ہونے والے سپاہی کے جنازے میں تو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ نظر آئے لیکن 60 سے زائد شہدا ءکی نماز جنازہ میں وہ بھی شامل نہیں ہوئے
حلال گوشت حیوان جنگلی ہویاپالتوحرام گوشت حیوانوں کے علاوہ جن کابیان کھانے اورپینے والی چیزوں کے احکام میں آئے گااس کواس طریقے کے مطابق ذبح کیا جائے جوبعدمیں بتایاجائے گاتواس کی جان نکل جانے کے بعداس کاگوشت حلال اور بدن پاک ہے۔لیکن اونٹ،مچھلی اورٹڈی کوحلال کرنے کا دوسرا طریقہ ہے جس کو آئندہ مسائل میں بیان کیاجائے گا۔
چنانچہ اس عالم نے ایسا ہی کیا لیکن امام زمانہ عليہ السلام سے ملاقات نہ ہوسکی، دوسری رات ، دوسرے عالم کو بھیجاگیا لیکن ان کو بھی کوئی جواب نہ مل سکا. آخری رات تیسرے عالم بزرگوار بنام محمد بن عیسیٰ کو بھیجاگیا چنانچہ وہ بھی صحرا کی طرف نکل گئے اور روتے پکارتے ہوئے امام عليہ السلام سے مدد طلب کی۔ جب رات اپنی آخری منزل پر پہنچی تو انھوں نے سنا کہ کوئی شخص ان سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے:
اس اجلاس میں ایرانی دینی مدارس کے سربراہ آیت اللہ اعرافی، صوبہ کردستان میں نمائندہ ولی فقیہ حجۃ الاسلام والمسلمین پور ذہبی، صوبہ کردستان کے گورنر اور شیعہ سنی علماء اور طلباء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
لاہور میں ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران حسن علی نے کہا کہ یو اے ای میں کھیلے جانے والے انٹرنیشنل میچز میں 200 سے زیادہ رنز بہت کم بنتے دیکھے ہیں، میرے خیال میں وہاں 160یا 170 رنز جیت کے لیے کافی ہوں گے۔
طلاب کرام سے گزارش هے چونکه امتحانات نومبر کے آخری ایام میں هوں گے لھذا ابھی سے درج ذیل کتابوں کی تیاری رکھیں۔